کسی بھی نظریئے سے ایسوسیئیٹڈ پوجا پاٹ اور اخلاقیات کے تحفظ کے نام پر جان و مال کی قربانی دینا سیکھنے کا آغاز تو کانٹراڈکشن کے زور پر نظریاتی موافقین کے دعوے کو دلیل اور نظریاتی مخالفین کی دلیل کو دعوی مان لینے سے ہی ہو جایا کرتا ہے ۔ ضرورت لائق بقایا کی توانایاں اسوقت حاصل ہو جایا کرتی ہیں جب کسی با اخلاق قوم کے عوام کو اپنی جیلیسی کو ایروگنس قرار دے سکنے والے بد اخلاق نظریاتی مخالفین مل جائیں ۔ وگرنہ دوسری صورت میں کسی بد اخلاق قوم کے عوام کو اپنی ایروگنس کو جیلیسی قرار دے سکنے والے با اخلاق نظریاتی مخالفین مل جائیں ۔
زمانہ امن میں تو اپنی پوجا پاٹ سے حاصل ہونے والی تسکین اور اخلاقیات کے تحفظ کے نام پر دوسروں کی دی ہوئی جان و مال کی قربانیوں سے اگاہی گھڑیال کے سرٹیفیکیٹوں اور پیرانا مچھیوں کے تاریخ ساز اعلانات کی بدولت ہی ہوا کرتی ہے ۔ بغیر مالی فوائد حاصل کیئے پوجا پاٹ سے تسکین حاصل کرنا اور اخلاقیات کے تحفظ کے نام اپنے جان و مال کی قربانی دیتے رہنا صرف عوام کا ہی کام ہوتا ہے ۔ جبکے مال کے بدلے پوجا پاٹ سے حاصل ہونے والی تسکین کا اظہار کر کے دکھاتے رہنے کے ساتھ ساتھ مال کی قربانی دیتے رہنا پیرانا مچھیوں کو جان کی قربانی دیتے رہنے بچائے رکھتا ہے ۔
گھڑیال کی قیادت میں عوامی نظریئے سے ایسوسیئیٹڈ پوجا پاٹ اور اخلاقیات کے تحفظ کیلئے لڑی جانے والی جنگوں میں جان و مال کی قربانی دینا بھی صرف عوام کا ہی کام ہوتا ہے جبکے بظاہر لڑتی ہوئی نظر آنے والی پیرانا مچھیوں کا کام جان کی قربانی دینا نہیں ہوتا بلکے گھڑیال کی طرف سے ہدایات دیتے ہوئے مال غنیمت پر نظر رکھنا ہوتا ہے ۔ جنگ کے خاتمے کے بعد پیرانا مچھیوں کا کام اپنے لیئے اچھے مال غنیمت کو چھپا لینے والے نمک حرام عوام کو بلیکمیل کرنا اور عوام کو انکی قربانیوں کی تعریفوں سے نوازنے کے ساتھ ساتھ سب سے اچھا مال گھڑیال کی نظر کرنا سکھانا ہوتا ہے ۔
عظیم قوم کا عظیم کام یہ ہے کے وہ اپنے عظیم نظریئے کی حفاظت کی غرض سے گھڑیال اور اس کی پیرانہ مچھیوں کو فرما برداروں کی طرح پالے اور اپنی بھوک کو اچھی طرح برداشت کرلینے کے بعد نظریاتی دشمنوں پر ٹوٹ پڑنا سیکھے ۔ زمانہ امن میں لوکل نظریاتی دشمنوں کو عبرت کا نشان بنانے کیلئے ٹھکانے لگائے ۔ جب بالکل ہے بھوکی ہو جانے کو ہو تو کسی نظریاتی دشمن قوم کو ٹھکانے لگانے کیلیئے تیار ہو جائے ۔ اپنے عظیم نظریئے کی حفاظت اور اپنی باقیات کا زمہ گھڑیال اور اسکی پیرانا مچھیوں کی اولاد کو سونپ کر ایک سوئیسائیڈل مشن پر آن، بان اور شان کے ساتھ روانہ ہوجائے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
پیرانا مچھی بننا سیکھیں جی ۔ عوام اور گھڑیال دونوں ہی بڑے کھلے دل کے ہوا کرتے ہیں ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ اگست چودہ ۔ ایٹ کیوں، کیسے، اور فیسبک ۔
Tuesday, September 11, 2012
آلٹروازم ان ٹربل ( فورٹینتھ اگست کے نام ) ۔
Wednesday, August 15, 2012
نظریاتی اختلافات کی خوبصورتیاں ۔
دلیل، تاویل اور دعوے کے زور پر نظریاتی مخالفت ۔
جس طرح سے نظریاتی موافقین کا دعوي ایسی تاویل ہوتی ہے جسے اپنی کانٹراڈکشن کی مدد سے دلیل مان لینا نہایت ہی آسان ہوتا ہے ۔ اسی طرح نظریاتی مخالفین کی دلیل بھی ایسی تاویل ہوتی ہے جسے اپنی کانٹراڈکشن کی مدد سے دعوي مان لینا نہایت ہی آسان ہوتا ہے ۔ نظریاتی مخالفین کے دعوے کو رد کر دینا بھی تاویل ہوگئی اور نظریاتی موافقین کی دلیل کو مان لینا بھی تاویل ہوگئی ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
دلیل کے لائق مواد صرف اپنے نظریاتی موافقین کا اور دعوے کے لائق مواد صرف اپنے نظریاتی مخالفین کا ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ اگست بارہ ۔ ایٹ کیوں، کیسے ۔
کانٹراڈکشن اور خوشبختی کی گارنٹیاں ۔
کسی بھی دین تمسخر دین کے فالور کو یہ سمجھانا ناممکن ہوتا ہے کے وہ صرف مخالفت برائے مخالفت کے نام پر اپنے نظریاتی مخالفین کو دین تمسخر دین کا فالوور نا قرار دیا کرے ۔ کوئی خود سے ہی چاہے تو ہی وہ اپنی کانٹراڈکشن کو ختم کر سکنے میں کامیاب ہو سکتا ہے ۔ کسی نے بھی اب تک جو بھی سیکھا ہے وہ اسنے اپنی خوشی کیلیئے اپنی خوشی سے ہی سیکھا ہے ۔ جب خوشی اپنی ہو تو پھر کوئی کسی دوسرے کو ایسی خوشی فراہم کرنے پر ظالم بھی قرار نہیں دے سکتا ۔ وہ شائد اسلیئے کے جب مظلوم خود ہی اپنے ساتھ ظلم کرے تو وہ مظلوم کہلوانے کا حقدار نہیں ہو سکتا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
جہاں ڈنڈے کے زور پر نظریاتی مخالفین کو انکی کمظرفی کی سزا دی جاسکتی ہے وہیں اپنے کمظرف نظریاتی موافقین اور خوشبختی کی گارنٹیوں کی مدد سے آرڈر بھی مینٹین کیا جاسکتا ہے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ اگست بارہ ۔ ایٹ کیوں، کیسے ۔
بھوک اور پیاس کا جائز قسم کے ہیلوسینیشنز کیساتھ تعلق ۔
پوجا پاٹ کے لائق نظریات کی حفاظت کیلئے نظریاتی حفاظتی دستوں کو ضروری مار دھاڑ کے دوران بھوکا اور پیاسا رہ کر پوجا پاٹ تو کرنی ہی پڑتی ہے ۔ اگر ضروری مار دھاڑ کیلیئے ریزروڈ سیزن میں مار دھاڑ کیئے بغیر صرف بھوکا اور پیاسا رہ کر پوجا پاٹ کیجائے تو پھر نفسیاتی مسائل پیدا ہو جائیا کرتے ہیں ۔ زمانہ امن کے دوران صرف بھوک اور پیاس کی وجہ پیدا ہونے والے ایسے نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کیلیئے یہی مناسب ہوتا ہے کے ایک تو پوجا پاٹ کی کوانٹیٹی کو کافی مقدار میں بڑھا لیا جائے ۔ ساتھ میں اس بڑھی ہوئی پوجا پاٹ کی اس حد تک تعریف کی جائے کے بھوکے اور پیاسے رہ سکنے والوں کو صرف جائز قسم کے ہیلوسینیشنز بھی محسوس ہونے شروع ہو جایا کریں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
خدا پرست بھی نا رہ سکیں خدا پرست تو پھر کفر پرست بھی کیوں نا بن کے دکھائیں خدا پرست ؟
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ اگست دس ۔ ایٹ کیوں، کیسے ۔
الجھنا اور بھگتنے کے علاوہ نوازنا ۔
بھئی کیا زمانہ تھا وہ بھی ۔ جب اپنی مرضی کرلینے کیلیئے صرف ایک ہی قسم کے لوکل نظریاتی حفاظتی دستے کو الجھنے اور بھگتنے کے علاوہ نوازنا بھی پڑتا تھا ۔ اب تو حالات بہت ہی بہتر ہیں جی ۔ نوازنے والا مال نظریاتی مخالفین میں تقسیم کر دو ۔ اللہ اللہ خیر سلا ۔ لوکل نظریات کے حامی حفاظتی دستے ایک دوسرے سے خود ہی الجھتے بھی رہینگے اور ایک دوسرے کو خود سے ہی بھگتتے بھی رہینگے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
زمانہ بڑا ہی مہربان ہوگیا ہے بھیا ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ اگست آٹھ ۔ ایٹ کیوں، کیسے ۔
بیہودہ سوالوں کی بیہودگیاں ۔
ایک جیلس انسان کو عموما اپنے ایسے بیہودہ سوالوں کے جوابات چاہیئے ہوتے ہیں جنکے باعث وہ کمظرف انسان کہلاتا رہا ہو ۔ جب اسے ان سوالوں کے کنونسنگ جواب مل جاتے ہیں تو وہ خود کو کمظرف کہنے والوں کو بھی کمظرف کہلانے پر مجبور کر دیا کرتا ہے ۔ اس صورتحال میں اکثر ایسے جیلس انسان اپنے آپ کو ایروگنٹ فیل کرنا شروع ہو جاتے ہیں ۔
ریئیلیٹی میں تو ایروگنٹ انسان اکثر ہی دوسرے جیلس انسانوں کے سوالوں کے جواب نہیں دے پایا کرتے اور با آسانی کمظرف ثابت ہو جائیا کرتے ہیں ۔ ایسی صورت میں ایروگنٹ انسان غرور کرنے کے قابل تو نہیں رہ پایا کرتے مگر ان میں سے کچھ اپنے جیلس احسانمندوں کے زور پر اپنے جیلس اپوننٹس کو انجام تک پہنچانے میں کامیاب ہو جائیا کرتے ہیں ۔
جیلس انسان اپنے انجام کو پہنچ کر عوام کے سبق کیلیئے نئے بیہودہ سوالات کو پیچھے چھوڑ جایا کرتے ہیں ۔ ان سوالات کے باعث جیلس انسان ان جیلس انسانوں کی نظروں میں تحقیر کے لائق ہو جایا کرتے ہیں جو کے ایروگنٹ انسانوں کے احسانمند ہوں ۔ نتیجتا ایروگنٹ انسان بھی اپنے آپ کو کمظرف کہلانے سے بچانے کیلئیے ایسے سوالات کو بین کردیتے ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
جیسے ایک جیلس جو اپنی جیلیسی کو ایروگنس سمجھے وہ اپنے آپ کو جیلس ماننے پر تیار نہیں ہوا کرتا ویسے ہی ایک ایروگنٹ جو اپنی ایروگنس کو جیلیسی نا سمجھے وہ بھی اپنے آپ کو ایروگنٹ ماننے پر تیار نہیں ہوا کرتا ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ اگست چار ۔ ایٹ کیوں، کیسے ۔
Tuesday, August 14, 2012
گھڑیال بطور دیوتا یا دیوتا کا گھڑیال ۔
کسی دیوتا سے موافقت یا مخالفت بھرے تعلق والی آزادی صرف اس وقت تک ہی آزادی ہے جب تک وہ آزادی صرف اپنے آپ تک محدود رہے ۔ دوسروں کو اپنی آذادی کے اپنی مرضی سے استعمال کر لینے کا پتا چلا نہیں کے گھڑیالوں اور انکی پیرانا مچھیوں سے واسطہ پڑا نہیں ۔ اپنی آزادی کو کھل کے استعمال کرنے کیلیئے پہلے مناسب تعداد میں نظریاتی موافق پیرانا مچھیوں کو جمع کریں اور پھر دھڑلے سے اپنے گھڑیال ہونے کا اعلان کر دیں ۔
جس گھڑیال کے ساتھ اس کا تحفظ کرنے کیلئے مناسب تعداد میں پیرانا مچھیاں ہوں، اس گھڑیال کی یا اس گھڑیال کے پسندیدہ دیوتا کی تو ورشپ بہت ہی ضروری ہوا کرتی ہے ۔ گھڑیالوں نے تو آتے جاتے ہی رہنا اور انکی پیرانا مچھیوں نے بھی مار کٹائی کرتے ہی رہنا ہے ۔ جہاں دور کے گھڑیال یا اسکے پسندیدہ دیوتا کی ورشپ مناسب نہیں ہے وہیں لوکل گھڑیال کی کسی سابق پیرانا مچھی کی حمائیت کرنا بھی مناسب نہیں ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
کسی سابق پیرانا مچھی کی مدد کرنا یا تو گھڑیال سے مار کھانا ہے نہیں تو پھر اپنے لئے ایک نئے گھڑیال کو پیدا کرنا ہے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جولائی تچوبیس ۔ ایٹ فیسبک ۔
Monday, July 9, 2012
انتقام کے بہانے اور بولیئنگ ۔
انتقام تو ان بیچاروں سے ہی لیا جائیا کرتا ہے جو انتقام لینے والے سے انتقام نا لے سکیں اور جو انتقام نا لے سکیں ۔ ایسوں سے انتقام نا لینا تو ان پر احسان کرنا ہوتا ہے اور اس احسان کی مشہوری وہی بیچارے کیا کرتے ہیں جو اپنے ساتھ کیئے ہوئے اس احسان کو نیکی قرار دیں ۔ انتقام لے سکنے والوں سے انتقام لے لینا نیکی تو ہو سکتا ہے مگر اس نیکی کو نیکی کہنے والوں پر احسانوں کی برساتیں کرتے رہنا پڑتی ہیں ۔ احسانوں کی برساتوں میں کمی ہوئی نہیں کے نیکی خود پر احسان بن کے نازل ہوئی نہیں ۔
جائز انتقام کو لینے کیلئے ضروری ہے کے دوسرے کو کچھ ایسا کرتے رہنے کا ضرور موقع ضرور دیا جائے جس کا ان سے انتقام لیا جا سکے ۔ کامیابی سے بولیئنگ کرلینے والے ایسا کچھ کر سکنے کے بہت ہی ایکسپرٹ ہوا کرتے ہیں جس کی مدد سے انتقام نا لے سکنے والوں سے شغلا انتقام لیا جا سکے ۔ بولیئنگ کرلینے والوں کے ساتھی بھی عام طور پر وہی ہوا کرتے ہیں جو بولیئنگ سے بچنے کیلئے بولیئنگ کو سپورٹ کرتے ہیں ۔ بدقسمتی سے بولیئنگ کو روکنے کیلئے کی جانے والی کوششیں بھی بولیئنگ ہی کہلواتی ہیں ۔
بولیئنگ کی کچھ اقسام انسانوں میں آرڈر قائم رکھنے میں معاون بھی ہوتی ہیں ۔ ان اقسام کی بولیئنگز کو ذیادہ تر انسان اپنی زاتی تسکین کیلئے ضروری سمجھ لیا کرتے ہیں اور اپنے لئے کاز سمجھ کر کاز نا سمجھنے والوں سے انتقام کو جائز قرار دیتے ہوئے انتقام لینے کی ہر حد کو پار کر جائیا کرتے ہیں ۔ ان اقسام کی بولیئنگز کو بولیئنگ ناماننے کے سبب بولیئنگ کی ڈیفینیش کمپلیٹ نہیں ہو پائیا کرتی اور نتیجتا بولیئنگ ہر اس بولیئنگ سے ہمیشہ ہی جیت جائیا کرتی ہے جسے بولیئنگ قرار نہیں دیا جائیا کرتا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
کامیاب بولیئنگ جینئس بنے رہنے کیلئے ایڈیپٹ کرتے رہیں ۔ ایک فارمر بولیئنگ جینئس کے کانفیشنز اعتبار کے قابل نہیں ہوا کرتے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جولائی تین ۔ ایٹ اردو تحاریر، کیوں، کیسے، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
Saturday, June 30, 2012
منافقت بزور مقدس گائے سے نجات ۔
دوسروں کو اپنے سے کمتر نا سمجھتے رہنے سے جہاں کسی کو یہ پتا چلے گا کے وہ کیوں خواہ مخواہ اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھ رہا تھا | تھی وہیں اسے یہ بھی پتا چلے گا کے دوسرے انسان جب اس سے اپنا مطلب نکال پانے میں ناکام ہو جاتے ہونگے تو وہ دوسرے انسان فورا اس کو اپنی مقدس گائے سے کمتر قرار دیدیتے ہونگے ۔ اس کی اور ان دوسروں کی مقدس گائے اگر ایک ہی ہوگی تو اس کے پٹ جانے کی امکانات تو نیچرلی بڑھنے ہی ہیں ۔ مگر اگر اس کی مقدس گائے ان دوسروں کی مقدس گائے سے مختلف ہوگی تو وہ فورا ان دوسروں کو انکی مقدس گائے سمیت اپنے سے کمتر قرار دیدے گا اور پھر اسے اب ان دوسروں کی کھلی دشمنی کا سامنا بھی کرنا پڑ جائیگا ۔
یہ جان جانے کے بعد جہاں وہ اپنی منافقت کے ساتھ آسانی سے ان دوسروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرسکے گا | گی وہیں وہ اپنی منافقت کو ختم کر کے ان کے روئیوں کے بارے میں جان کر ان سے مثبت انداز میں انٹرایکٹ کر لینے کے قابل بھی ہو سکے گا | گی ۔ اگر وہ بالفرض اگر اپنی منافقت کو ختم بھی کر دے تو دوسرے بھلا کیوں اپنی منافقت کو مفت میں ہی چھوڑ دیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کے اس کو اپنی ذاتی منافقت کے ختم ہونے کا یقین کیسے ہوگا بھلا ۔ یہ یقین کرنے کیلئے تو اسے ان دوسروں کی سچی تعریفیں کرنی پڑا کریں گی ۔ یہ مشکل ترین کام تو وہ تبھی کر پائے گا | گی جب اس کو ان دوسروں کی برائی کے ساتھ ساتھ ان دوسروں کی اچھائی بھی نظر آئیا کرے گی ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
شروع کے کچھ دن ہی ہچکچاہٹ ہوگی اور پھر مقدس گائے بننے کی خواہش ختم ہوتی چلی جائے گی ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون انتیس ۔ ایٹ اردو تحاریر، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
Tuesday, June 26, 2012
شکاری | شکار کا | کے شکار | شکاری ۔
منپسند خدا اور اسکی منپسند خدائی ۔
سنا ہے کے توبا کرنے والے انسان کے گناہوں کو معاف کرنا اسکے منپسند خدا زمے ہے جبکے اسکے ناجائز مال کو جائز قرار دینا اسکے منپسند خدا کی منپسند خدائی کے زمے ہے ۔ منپسند خدا تو اپنی منپسند خدائی کے گناہ معاف کرنے میں شرمائے گا ہی مگر ایسے خدا کی منپسند خدائی تو ایک دوسرے کے ناجائز مال کو جائز قرار دینے میں ضرور ڈھیٹائی دکھائے گی ۔
ڈیھٹائی کو منپسند بناسپتی میں تلیں اور پھر اسکے شرمانے سے لطف اندوز ہوں جی، نہیں تو پھر شرم کو منپسند بناسپتی میں تلیں اور پھر اسکی ڈھیٹائی سے لطف اندوز ہوں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
خدا کی منپسند خدائی بھی نا شرمائے اور خدائی کا منپسند خدا بھی ڈھیٹائی دکھائے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون بارہ ۔ ایٹ اردو تحاریر، الکمونیا، اور فیسبک ۔
انقلاب یا تبدیلی اور یوٹوپیا ۔
ہر نئے انقلاب نے بھی ایک نئے ہی گٹھ جوڑ کو ہی جنم دیا ہے ۔ انقلاب کو انقلاب کہلواتے رہنے کیلئے بھی وہی کچھ کرنا پڑتا ہے جو انقلاب کے آنے سے پہلے انقلاب کو آنے سے روکنے والے کر رہے ہوتے ہیں ۔ تبدیلی تو مسلسل تبدیلی کا نام ہی ہو سکتا ہے اور وہ تبدیلی ہی کیا جسکے بعد تبدیلی کو ہونے سے روکتے رہنے کے لئے انقلابوں کو لاتے رہنے کی ضرورت پڑتی رہے ۔ تبدیلیوں نے بھی آتے رہنا ہے اور انقلابوں نے بھی تبدیلیوں کو روکنے کیلئے آتے رہنا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
تبدیلیوں نے ایسے یوٹوپیئے کو لانا ہے جو یوٹوپیا نہیں ہوگا اور انقلاب نے ایسے یوٹوپیئے کو لانا ہے جو یوٹوپیا نہیں تھا ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون تیرہ ۔ ایٹ اردو تحاریر، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
زلت بھری زندگی اور منپسند قیامت ۔
ہر کسی کو صرف اپنی زندگی ہی منپسند زندگی جبکے دوسروں کی زندگی ہی زلت بھری زندگی محسوس ہوا کرتی ہے ۔ جسے اپنی زندگی منپسند زندگی لگے اسے تو اصولا دوسروں کی منپسند زندگی کو زلت بھری زندگی محسوس نہیں کرنا چاہیئے ۔ ایسا نا ہونے کی ایک وجہ اپنی زلت بھری زندگی کو منپسند زندگی سمجھنا بھی ہو سکتا ہے جسکی وجہ سے اسے دوسروں کی منپسند زندگی ایک زلت بھری زندگی محسوس ہونا شروع ہو جائے ۔
جسے اپنی منپسند زندگی ایک زلت بھری زندگی محسوس نہیں ہوتی ہوگی وہ دوسروں کو اپنی مرضی کی زندگی گزارنے پر مجبور کرنے کی مسلسل کوششیں کرتا رہتا ہوگا ۔ جب ایسا کرلینے میں کامیابی نہیں ہو پاتی ہوگی تو پھر اسے دوسروں کی زلت بھری آفٹر لائف کیلئے منپسند قیامت کے خواب آنا شروع ہو جاتے ہونگے ۔ ایسا آسانی سے محسوس کرلینے کیلئے تو سند یافتہ لٹریچر سے خوف اور لالچ سے بھر پور بڑی ہی پر اثر کہانیاں بھی مل جائیا کرتی ہونگیں ۔
دوسری وجہ کسی کی منپسند زندگی کو زلت آمیز زندگی نا سمجھنا بھی ہو سکتا ہے ۔ ایسی صورت میں انسان ایک زلت بھری زندگی کو اپنے لیئے منسپسند زندگی سمجھ کر گزارنے کے خواب دیکھنا شروع کر دیتا ہوگا ۔ جب اپنی منپسند زندگی حاصل کرلینے میں کامیاب ہو جاتا ہوگا تو پھر دوسرے انسانوں کو اپنی منپسند زندگی کے جیسی زندگی کو حاصل کر سکنے سے روکنے کیلئے اپنی منپسند زندگی کو دوسروں کیلئے اپنی منپسند قیامت بنا دینے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہوگا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
منپسند قیامت کی خواب دیکھنے سے بہتر ہے کے اپنی اور دوسروں کی منپسند زندگی کو زلت بھری زندگی نا سمجھا جائے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون بیس ۔ ایٹ اردو تحاریر، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
خیر و شر اور کولیٹورل ڈیمیج ۔
خیر و شر کے تسلسل کے لئے ضروری ہوتا ہے کے برے انسان اچھے انسان پیدا کرتے رہیں اور اچھے انسان برے انسان پیدا کرتے رہیں ۔ خیر کا تسلسل صرف اسی صورت میں ہے کے اچھے انسان بھی اچھے انسان پیدا کیا کریں اور برے انسان بھی اچھے انسان ہی پیدا کیا کریں ۔ جبکے شر کا تسلسل اس صرف اسی صورت میں ہے کے اچھے انسان بھی برے انسان پیدا کیا کریں اور برے انسان بھی برے انسان ہی پیدا کیا کریں ۔ اگر اچھے انسان صرف اچھے انسان اور برے انسان صرف برے انسان پیدا کرنا شروع کردیں تو خیر اور شر کا تصادم ہوتا رہے گا ۔
ریئیلیٹی میں تو سبھی انسان خیر یا شر کے مکمل حمائیتی نہیں ہو سکتے جبکے خیر و شر کا مسلسل تصادم تو مناسب بھی نہیں ہوا کرتا ۔ مزید یہ کے اس تصادم سے ذیادہ تر کولیٹرل ڈیمیج ہی ہوتا رہا کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کے کولیٹورل ڈیمیج کو غیر مناسب سمجھنے والے بھی خیر و شر کے تصادم کو کیوں ضروری اور کولیٹورل ڈیمیج کو مجبوری سمجھتے رہتے ہونگے ۔ شائد اس کی وجہ یہ ہو کے برے انسان پیدا تو اچھے انسان کریں مگر انہیں اچھے انسان سمجھا جائے اور جبکے اچھے انسان پیدا تو برے انسان کریں مگر انہیں برے انسان سمجھا جائے ۔
کولیٹورل ڈیمیج کی زد میں بھی وہی انسان آتے ہونگے جو یا تو صرف خیر کا تسلسل چاہتے ہونگے یا پھر صرف شر کا تسلسل چاہتے ہونگے ۔ ایسے انسانوں کو تو ایسا کرنے سے تو روکا نہیں جا سکتا کیونکے یہی انسان ہی تو خیر اور شر کا تصادم چاہتے ہیں ۔ اچھے انسان جو کے برے ہونگے تو وہ برے انسانوں سے تصادم نہیں چاہینگے اور برے انسان جو کے اچھے ہونگے وہ اچھے انسانوں سے تصادم نہیں چاہینگے ۔ کولیٹورل ڈیمیج کی زد میں آنے والوں کی ڈیٹرمینیشن کے باعث اب تو وہ انسان بھی کولیٹورل ڈیمیج کا شکار ہونا شروع ہوگئے ہیں جنکے خیال میں کولیٹورل ڈیمیج جائز بات ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
خیر و شر کا تصادم چاہنے والوں کی خاطر اچھے انسان مزید اچھے نہیں ہو سکتے اور برے انسان مزید برے نہیں ہو سکتے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون بائیس ۔ ایٹ اردو تحاریر، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
سکندر یا قلندر قسم کی مقدس گائے ۔
دوسرے انسان سے اپنی منافقت بھری عقیدت یا زلالت بھری محبت کے اظہار کیلئے اپنی منپسند مقدس گائے کا ہونا ضروری ہے ۔ جبکے کسی بھی بہانے دوسروں انسانوں کو اپنے آپ سے کمتر سمجھنے کیلئے اپنے آپ کو بھی مقدس گائے سمجھنا ضروری ہوا کرتا ہے ۔ جنرلی تو اپنے آپ کو مقدس گائے سمجھنے کیلئے کسی دوسرے انسان کو ہی اپنی مقدس گائے مان کر اس مقدس گائے کی مقدس گائے بننے کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔
پارٹیکیولرلی کوئی انسان خود بھی اپنے لئے مقدس گائے ہوسکتا ہے مگر اس بات سے تو تسکین بالکل بھی حاصل نہیں ہوا کر پاتی ۔ تسکین کو حاصل کر پانے کیلئے پہلے تو انسان کو قلندر | سکندر بن کر دوسرے انسانوں کو اپنی منپسند مقدس گائے بنانا پڑا کرتا ہے ۔ اس کامیابی کے بعد وہ اپنی مقدس گائیوں کی مدد سے ہی اپنی مقدس گائیوں کی مقدس گائے یعنی سکندر | قلندر بننے میں کامیاب ہو جائیا کرتا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
مقدس گائے بننے کیلئے ضروری ہے کے سکندر بن کر اپنے آپ کو قلندر محسوس کروایا جائے یا پھر قلندر بن کر اپنے آپ کو سکندر محسوس کروایا جائے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون اکیس ۔ ایٹ اردو تحاریر، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
عوام کی حفاظت کا زمہ لیکر عوام سے خدمت کرانا ۔
محافظوں کا کام عوام کی حفاظت کرنا نہیں ہوتا ہے بلکے اپنی خدمت کرانا ہوتا ہے ۔ عوام جب تک اپنے محافظوں کی خدمت کرتی رہتی ہے اس وقت تک اپنے محافظوں سے محفوظ رہتی ہیں ۔ محافظوں کا کام جرم کو ایکسٹنکٹ ہونے سے بچانے کیلئے جرم کو عوام سے محفوظ رکھنا ہے ۔ جو کے انتہائی ضروری کام ہے اور اپنے اس جرم کا جو پتا نا لگنے دیں وہی محافظ کہلوانے کی حقدار ہوا کرتے ہیں ۔
محافظوں کیلئے عوام سے اپنی خدمت کروانے کیلئے عوام کو آپس میں لڑوانا اور ایک مشترکہ دشمن کا ہونا ضروری ہے ۔ محافظوں کیلئے مشترکہ دشمن دستیاب نا ہو تو پھر بیچارے عوام کیلئے خدمات پیش کرنا مشکل ہو جائیا کرتا ہے ۔ جب عوام اپنے محافظوں کی خدمت کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو پھر محافظوں کو عوام کی خدمت کرنے کا موقع ڈنڈے سے تواضع کرلینے کی صورت میں مل جاتا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
محافظ بن کے ہی اپنے جرم کو جرم نا سمجھیں ۔ عوام اگر خدمت نا کریں تو پھر انکی تواضع ڈنڈوں سے کریں ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون پچیس ۔ ایٹ اردو تحاریر، القلم، الکمونیا، اور فیسبک ۔
Saturday, June 23, 2012
عقیدت یا محبت اور منافقت یا زلالت ۔
عقیدت یا ماں کے قدموں میں جنت ۔
سنا کرتے تھے کے ماں کے قدموں میں جنت ہوتی ہے اور اس جنت کے لین دین کے بہت ہی ڈرامے دیکھنے اور پڑھنے کو ملے ۔ کتابوں میں لکھا اور دیکھنے کو ملا کے عقیدت کے قدموں میں بھی جنت ہوتی ہے مگر عقیدت بھی جنت کے لین دین کے ڈرامے ہی کرتی ہوئی دیکھنے کو ملی ۔ مسئلہ اپنی ماں اور اپنی عقیدت کا نہیں ہوا کرتا بلکے دوسروں کی ماں اور عقیدت کا ہوا کرتا ہے ۔ دوسروں کی ماں اچھی لگنے لگے تو اپنی ماں جنت کا لین دین کرتی ہوئی اچھی نہیں لگا کرتی ۔ اپنی عقیدت اچھی لگنے لگے تو دوسروں کی عقیدت جنت کا لین دین کرتی ہوئی اچھی نہیں لگا کرتی ۔ ماں کو چاہنے والے اس دنیا کو ماں کیلئے جنت بنا دینے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے ہونگے اور عقیدت کو چاہنے والے ماں کو عقیدت کی جنت میں بھیجنے پر مجبور کر دیتے ہونگے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
ماں بڑی کے عقیدت ؟ دونوں کی جنتوں کا مقابلہ کرا کے دیکھ لیں جی ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون چھ ۔ ایٹ اردو تحاریر اور فیسبک ۔
محبت یا محبوبہ کے پیروں میں پیراڈائز ۔
جیہڑے ناراض سن، ہن خوش ہو لین ۔ تے جیہڑے خوش سن، ہن ناراض ہو لین ۔
سنا کرتے تھے کے محبوبہ کے پیروں میں پیراڈائز ہوتی ہے اور اس پیراڈائز کے لین دین کے بہت ہی ڈرامے دیکھنے اور پڑھنے کو ملے ۔ کتابوں میں لکھا اور دیکھنے کو ملا کے محبت کے پیروں میں بھی پیراڈائز ہوتی ہے مگر محبت بھی پیراڈائز کے لین دین کے ڈرامے ہی کرتی ہوئی دیکھنے کو ملی ۔ مسئلہ اپنی محبوبہ اور اپنی محبت کا نہیں ہوا کرتا بلکے دوسروں کی محبوبہ اور محبت کا ہوا کرتا ہے ۔ دوسروں کی محبوبہ اچھی لگنے لگے تو اپنی محبوبہ پیراڈائز کا لین دین کرتی ہوئی اچھی نہیں لگا کرتی ۔ اپنی محبت اچھی لگنے لگے تو دوسروں کی محبت پیراڈائز کا لین دین کرتی ہوئی اچھی نہیں لگا کرتی ۔ محبوبہ کو چاہنے والے اس دنیا کو محبوبہ کیلئے پیراڈائز بنا دینے میں بھی کامیاب نہیں ہوتے ہونگے اور محبت کو چاہنے والے محبوبہ کو محبت کی پیراڈائز میں بھیجنے پر مجبور کر دیتے ہونگے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
محبوبہ بڑی کے محبت ؟ دونوں کی پیراڈائزوں کا مقابلہ کرا کے دیکھ لیں جی ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون چھ ۔ ایٹ اردو تحاریر اور فیسبک ۔
ماں سے عقیدت یا محبوبہ سے محبت ۔
خدا پرست مرد اپنی ماں سے عقیدت رکھتا ہے اور اسے دنیاوی زندگی کے بعد اپنی پسند کی جنت میں بھیجنے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور اسی کوشش میں اپنی محبوبہ سے محبت کر کے اسے اسکی پسند کی دنیاوی پیراڈائز میں پہنچانے میں بھی کامیاب نہیں ہوا کرتا ۔
کفر پرست مرد اپنی محبوبہ سے محبت کرتا ہے اور اسے اسکی پسند کی دنیاوی پیراڈائز میں پہنچانے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور اسی کوشش میں اپنی ماں سے عقیدت رکھ کے اسے دنیاوی زندگی کے بعد اسکی پسند کی جنت میں پہنچانے میں بھی کامیاب نہیں ہوا کرتا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
کوئی یا تو ماں کی عقیدت میں ماں کی دنیا کو جہنم بنائے اور اپنی محبوبہ کیلئے دنیاوی زندگی کے بعد کی جنت کی تعمیر کرے یا پھر محبوبہ کی محبت میں دنیا کو محبوبہ کی پیراڈائز بنائے اور اپنی ماں کیلئے دنیاوی زندگی کے بعد کے جہنم کی تعمیر کرے ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون بارہ ۔ ایٹ اردو تحاریر، الکمونیا، اور فیسبک ۔
منافقت بھری عقیدت یا کے زلالت بھری محبت ۔
بندہ مرے سہی منافقت یا ذلالت کے الزامات سہتے رہنے کو رشتے داران اور عزیزان گرامیز کو چھوڑ جایا کرتا ہے ۔ چونکے منافقت بھری عقیدت کو ذلالت اور زلالت بھری محبت کو منافقت کہا جا سکتا ہے اسلیئے کامیابی اسی میں ہے کے جانے والوں پر لگائے گئے منافقت یا ذلالت کے الزامات کا ڈھیٹائی سے ڈیفنس کیا جائے ۔ اس ڈیفنس کے حتمی انجام کو شہادت نا تسلیم کروا پانا غیر اخلاقی اخلاقیات کی اخلاقی کامیابی ہی ہو سکتی ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
لیڈر بننے کیلئے اپنی زلالت کو دوسروں کی منافقت میں شامل کرلیں، نہیں تو پھر اپنی منافقت کو دوسروں کی زلالت میں شامل کریں ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ جون سترہ ۔ ایٹ اردو تحاریر اور فیسبک ۔
Sunday, June 10, 2012
ڈیزائینرز، ڈسپیچرز اور مینیپولیٹرز ۔
ڈیزائینر کسی بھی سسٹم کو امپروو کر لیتا ہے اور اس امپرووڈ سسٹم کو اپنا محتاج نا بنالینے کی باعث کسی بھی دوسرے سسٹم کو امپروو کرنے کا کام کرسکتا ہے ۔ ڈیزائینر ڈسپیچرز اور مینیپولیٹرز کے ساتھ ملکر کام بھی کر لیتا ہے اور دونوں کو ایک جیسی جھوٹی مگر غیر منافقانہ شاباش بھی دیا کرتا ہے ۔ ڈیزائیرز ایک دوسرے کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالا کرتے اور ایک دوسرے کو سچی شاباشیں ہی دیا کرتے ہیں ۔
مینیپولیٹر بھی کسی بھی سسٹم کو امپروو کر لیتا ہے مگر اس سسٹم کو اپنا محتاج بنالینے کے بعد اس سسٹم کا محتاج ہو جاتا ہے ۔ مینیپولیٹر کا کام صرف ڈسپیچرز کو ڈیزائینرز بننے سے روکنا ہوتا ہے ۔ مینیپولیٹر سسٹم کو چھوڑتا تو نہیں ہے لیکن مینیپولیٹ کرسکنے والے ڈسپیچرز اس سے بڑے مینیپولیٹرز بن کر اسے سسٹم کو با عزت طریقے سے چھوڑ دینے پر مجبور کر دیا کرتے ہیں ۔ مینیپولیٹرز ایک دوسرے کو جھوٹی مگر منافقت سے بھرپور شاباشیں دینے میں اپنا ثانی نہیں چھوڑا کرتے ۔
ڈسپیچر کا کام ہے کے خوشی سے مینیپولیٹرز کا ہی کام کرنا ۔ جو ڈسپیچر خوشی سے کام نہیں کرتا وہ آسانی سے مینیپولیٹر تو بن جاتا ہے لیکن ڈیزائینر بن سکنے کے قابل قربانیاں بمشکل ہی دی پایا کرتا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
گورے رنگ دا زمانہ ہے جی ۔ مینیپولیٹرز آلا میک اپ کرو تے کوجھیاں نوں پراں کرو ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ مئی بیس ۔ ایٹ اردو بلاگر اور فیسبک ۔
Wednesday, June 6, 2012
ایس پاسے او ؟ یا فیر ایس پاسے ؟
ایس پاسے او ؟
یہ دنیا اچھی تھی، اچھی ہے اور اچھی ہی رہیگی ۔ ہر کسی نے اچھے کام کیئے ہیں، سبھی اچھے کام کر رہے ہیں اور سبھی نے اچھے کام ہی کرتے رہنا ہے ۔ اگر کسی کا کیا ہوا اچھا کام کسی کو اچھا نا لگے تو اس اچھے کام کو برا سمجھنا ایسے ہی ہے کے اپنے ہی کسی اچھے کام کو خود سے برا کہنا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
مطمعن ہوئے او کے نئی ۔
پبلشڈ اون بیس گیارہ ۔ اکتوبر چھبیس ۔ ایٹ فیسبک ۔
یا فیر ایس پاسے ؟
جیہڑے ناراض سن، ہن خوش ہو لین ۔ تے جیہڑے خوش سن، ہن ناراض ہو لین ۔
یہ دنیا بری تھی، بری ہے اور بری ہی رہیگی ۔ ہر کسی نے برے کام کیئے ہیں، سبھی برے کام کر رہے ہیں اور سبھی نے برے کام ہی کرتے رہنا ہے ۔ اگر کسی کا کیا ہوا برا کام کسی کو برا نا لگے تو اس برے کام کو اچھا سمجھنا ایسے ہی ہے کے اپنے ہی کسی برے کام کو خود سے اچھا کہنا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
موڈ فیر وی خراب جے ۔
پبلشڈ اون بیس گیارہ ۔ اکتوبر چھبیس ۔ ایٹ فیسبک ۔
Tuesday, June 5, 2012
انشااللہ ۔
تاریخ میں انسان کی سب سے اہم ایجاد ایسے الفاظ کا مجموعہ رہی ہے جن کی ادائیگی کے بعد جھوٹے وعدے کرنے میں بہت ہی آسانی رہے ۔ جیسے کی یہ جادوئی وعدہ جسے حلفیہ بیان کہنے میں بھی کوئی برائی نہیں ہے ۔
انشااللہ ہماری مدد سے ہی ہماری پارٹی اقتدار میں آئے گی ۔ ہماری اس مدد کے بدلے میں ہماری پارٹی انشااللہ ہمیں انعام و اکرام اور اہم عہدے دے گی ۔ انشااللہ ہم اپنی اور اپنی پارٹی کی خدمت کریں گے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
انسانیت گئی بھاڑ میں ۔ انشااللہ ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ مارچ چوبیس ۔ ایٹ اردو بلاگر، پاکنیٹ حلقہ احباب، اور ڈیرا درویشاں دا ۔
Monday, June 4, 2012
بھیڑیں اور بھیڑئے ۔
ہر انسان میں بھیڑیا بھی ہوتا ہے اور بھیڑ بھی ۔ ذیادہ تر انسان بھیڑ کی طرح رہنا چاہتے تھے اور بھیڑیوں سے اپنی حفاظت کروانا چاہتے تھے ۔ بھیڑیوں کا کام اپنی بھیڑوں کی حفاظت کرنا تھا اور دشمن بھیڑیوں سے لڑنا اور انکی بھیڑوں کو بھنبھوڑنا تھا ۔ جب حفاظت کرنے والے بھیڑئے دشمن بھیڑیوں سے لڑنے کے قابل نہیں رہتے تھے تو وہ اپنی ہی بھیڑوں کو بھنبھوڑنا شروع کر دیتے تھے ۔ جب بھی کسی بھیڑ نے بھیڑوں کو بھیڑئے بننے کو کہا تو اس بھیڑ کو بھیڑ نما بھیڑیوں نے ماردیا ۔ ایک وقت آیا جب کچھ بھیڑیوں نے بھیڑوں کے بھیس میں بھیڑوں کو آپس میں بھیڑوں کی طرح رہنا اور دشمن کیساتھ بھیڑیوں کی طرح لڑنا سکھانا شروع کردیا ۔ اب بھیڑیوں کے لئے بھیڑوں کے بھیس اپنی ہی بھیڑوں کو مزید بھیڑیں بنا کر بھنبھوڑنا نسبتا زیادہ آسان ہوگیا ۔ بھیڑیوں نے اپنی بھیڑوں کو مزید بھنبھوڑنا شروع کر دیا اور جب چاہا دشمن کے مقابلے کیلئے بھیڑئے بنا لیا ۔ بڑے ہی عرصے تک بھیڑیوں نے اپنی بھیڑوں کو بھنبھوڑ لیا اور وہ وقت آگیا کے بھیڑیوں کیلئے بھیڑوں کے روپ میں رہتے ہوئے اپنی بھیڑوں کو مزید بھنبھوڑنا ممکن نہیں رہا ۔ اب بھیڑیں خود سے ہی بھیڑئے بننا شروع ہوگئی ہیں مگر مسئلہ یہ کے انہیں اپنے بھیڑئے بننے کا تو افسوس تک نہیں مگر دوسری بھیڑوں کے بھیڑئے بننے پر دکھ ضرور ہوا کرتا ہے ۔ اس دکھ کا اظہار وہ بھیڑ کی کھال پہن کر اور بار بار بھیڑ والی آوازیں نکال کر کیا کرتے ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
مجھے بھیڑ سمجھو ظالمو اور بھیڑئے نا بنو ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ مارچ پانچ ۔ ایٹ اردو بلاگر ۔
Saturday, June 2, 2012
چیٹر، پریچر اور ٹیچر ۔
ٹیچر اپنی مرضی سے سیکھتا ہے اور اپنی مرضی سے ہی سکھاتا ہے ۔ چیٹر نا اپنی مرضی سے سیکھتا ہے اور نا اپنی مرضی سے سکھاتا ہے ۔ چیٹر کا کام ٹیچرز کو اپنی مرضی کا سکھانے پر مجبور کرنا ہے اور ایسا کرنے کیلئے وہ مختلف بہانوں سے ٹیچرز کو خود بھی ایویلیوئیٹ کرتا ہے اور دوسرے چیٹرز سے بھی ایویلیوئیٹ کرواتا ہے ۔ ٹیچر بھی چیٹر ہی ہوگا اگر وہ ایویلیوئیٹ ہونے سے گبھراتا ہو ۔
چیٹر چیٹر سے بھی نہیں الجھتا اور نا ہی ٹیچر سے ڈائریکٹلی الجھتا ہے ۔ جبکے ٹیچر نا تو ٹیچر سے الجھتا ہے اور نا ہی چیٹر سے الجھتا ہے ۔ جو چیٹر اپنے آپ کو ٹیچر ( جعلی ٹیچر یا پریچر ) سمجھتے ہیں وہ اپنی زاتی خوشی کیلئے اپنے جیسوں ( جعلی ٹیچروں یا پریچروں ) سے بھی الجھتے ہیں اور چیٹرز کی خوشی کیلئے ٹیچروں سے بھی الجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
مزے لینے ہوں تو چیٹر بنیں اور اگر مزے دینے ہوں تو پریچر ۔ نہیں تو ٹیچر وگرنا پھٹیچر ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ فروری اٹھارہ ۔ ایٹ اردو بلاگر ۔
Wednesday, May 30, 2012
ہمدردی کی بیدردی ۔
ہمدردی چاہنا بھی اور دوسروں کی ہمدردی کو ہمدردی نا ماننا انسان کی عادت ہوتی ہے ۔ اگر کسی انسان کو ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے تو پھر وہ کسی کا ہمدرد بنے ۔ یاد رکھیں کے ہمدردی کرنے کا اظہار ہی ہمدردی کرنے میں ناکامی کا سبب بن جایا کرتا ہے ۔
جس انسان کو ہمدردی چاہیئے ہوتی ہوگی وہی دوسرے انسانوں سے ہمدردی کرنا چاہتا ہوگا ۔ ایسے ہمدرد انسان کو اپنے سے ذیادہ بڑے ہمدرد انسان مل بھی جایا کرتے ہونگے ۔ جو اس سے ہمدردی حاصل کر کے اسے ایک ہمدرد انسان سے ناکام انسان بنا دیتے ہونگے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
ہمدردی بھی بیدردی سے نا کی تو کیا کی ؟
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ مارچ ۔ چودہ ۔ ایٹ ڈیرا درویشاں دا ۔
Tuesday, May 29, 2012
میاں فصیحت کی نصیحت ۔
نصیحتیں تو ہمیشہ اختیار والے ناصح ہیروز نے ہی کی ہونگیں جی ۔ ناصح ہیروز بھی اس لئے نصیحتیں کر گئے ہونگے کیونکہ کے کسی نے انہیں میاں فصیحت کہنے کی جرائت نہیں کی تھی ۔ ایسا شائد وہ اپنے سے تگڑوں کو اپنے سے ذیادہ کمزور کر دینے والے اختیارات دے کر اور کمزوروں کو اپنے سے زیادہ تگڑے کردینے والے القاب دیکر کر گزرنے میں کامیاب ہوگئے ہونگے ۔
ہر کوئی اپنے ہیرو کو ناصح منوانے میں اس وقت تک ہی کامیاب ہو جائیا کرتا ہے جب تک اس ہیرو سے وکیپیڈیا اور گوگل لا علم رہا کرتے ہیں ۔ پرانے وقتوں میں سنسر شپ کی بدولت لیڈرز ناصح ہیروز کی نصیحتوں کی مدد سے عوام کو کامیابی سے گدھے بنانے میں کامیاب ہو جائیا کرتے تھے ۔ مگر اب تو انٹرنیٹ کا کام ہی ناصح ہیروز کو میاں فصیحت بناتے رہنا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
اگر کسی بے اختیار ناصح نے کسی با اختیار ناصح کو کبھی میاں فصیحت کہا بھی ہوگا تو اپنے با اختیار ناصح کو میاں فصیحت نا کہہ سکنے والے میاں فصیحتوں نے اس بے اختیار ناصح کو کسی اور ہی جرم میں سزا دیدی ہوگی ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ مئی ۔ انیس ۔ ایٹ اردو بلاگر ۔
Wednesday, May 23, 2012
اللہ ہی بھلا کرے ۔
کسی کو دوست مان کر توقعات رکھنا تو دوستی کے نام پے دشمنی ہی ہو سکتی ہے جبکے کسی کا دوست بن کر دکھانا اپنے آپ سے دشمنی ہے ۔ کوئی اپنے ساتھ دشمنی کر کے کسی سے دوستی کا حق ادا کرے تو ایسا انسان اپنے آپ کے ساتھ ہی دھوکا کرتا ہوگا ۔ جو اپنے ساتھ خود دھوکہ کرے تو کوئی اسکو دھوکہ کیوں نا دے جی ۔ جو ایسا کر سکتا ہے وہ ہی کہہ سکتا ہے کے اسکے ساتھ دھوکہ نہیں ہو سکتا ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
دھوکیباز جو اپنے ساتھ دھوکا کرے تو پھر اللہ ہی اسکا بھلا کرے ۔
جو دھوکیباز انسان شیطان کو خدا سمجھ لیں ان دھوکیباز انسانوں سے خدا نے بھی دھوکہ ہی کیا ہوگا جی ۔
پبلشڈ اون بیس بارہ ۔ مئی چوبیس ۔ ایٹ اردو بلاگر اور فیسبک ۔