بظاہر تو پہلی تصویر میں ماں اور بیٹا اگر خوشحال اور صحتمند ہیں تو ہی خوش نظر آرہے ہیں ۔ وگرنا تو ورچوئل معصوم بیٹے کی ورچوئل معصوم ماں کو خوش دکھا کر غریب ماں کو سلیقے سے آنسو پی کر خوش رہنا سکھایا جارہا ہے ۔ ایسی تصویر کے زریعے ایک سلیقے والی عورت کو، جس کے غریب ماں یا دردمند نوکرانی ہونے کے ذیادہ چانسز ہوں، ہی شو کیا جا سکتا ہے ۔
جبکے دوسری تصویر میں بیٹا اور ماں اگر خوشحال اور صحتمند ہیں تو ہی خوش نظر آرہے ہیں ۔ وگرنا تو ورچوئل معصوم ماں کے ورچوئل معصوم بیٹے کو خوش دکھا کر غریب بیٹے کو سلیقے سے آنسو پی کر خوش رہنا سکھایا جارہا ہے ۔ ایسی تصویر کے زریعے ایک سلیقے والے مرد کو، جس کے غریب بیٹے یا دردمند نوکر ہونے کے ذیادہ چانسز ہوں، ہی شو کیا جا سکتا ہے ۔
صدیوں سے قائم خوشحالی اور صحتمندی تو ایسے سلیقے کو ہمیشہ قائم بھی رکھ سکتی ہے اور بوقت ضرورت پیدا بھی کر سکتی ہے ۔ مگر ماحول کی تیزی سے تبدیلی ایسا امپیکٹ نہیں چھوڑ سکتی ۔ وگرنا تو پھر غریب کی نسل کا ہمیشہ غریب رہنا اور امیر کی نسل کا ہمیشہ امیر رہنا ہی ایسے سلیقے کو قائم رکھ سکتا ہے ۔
بات تو صرف خوشحالی اور صحتمندی کی ہی ہے، مگر بن خوشحالی اور سلیقے کے مقابلے کی جایا کرتی ہے ۔ جیسے خوشحالی کی وجہ سے سلیقے کا جنم لینا ضروری نہیں ہے، مگر صرف خوشحالی کی مدد سے سلیقے کو خریدا تو جا سکتا ہے ۔ ویسے ہی سلیقے کی وجہ سے خوشحالی کا جنم لینا بھی ضروری نہیں ہے، مگر صرف سلیقے کی مدد سے خوشحالی کو خریدا بھی نہیں جا سکتا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
سلیقہ بیچنے کے کام تو آ جاتا ہے، اگر خوشحالی نا بھی ہو مگر سلیقہ خریدا بھی نہیں جا سکتا ہے، اگر خوشحالی نا ہو ۔
Wednesday, February 1, 2012
سلیقہ، صحتمندی اور خوشحالی ۔
Monday, January 30, 2012
عوام، بادشاہ اور انکے سہارے ۔
عوام کا کام بادشاہوں کی مرضی پر چلنا اور بادشاہوں کا کام عوام کو اپنی مرضی پے چلانا ہے ۔ عوام نے اپنی مرضی کرنی نہیں بلکے بادشاہوں سے اپنی مرضی کروانی ہوتی ہے جبکے بادشاہوں نے عوام کو اپنی مرضی کرنے سے روکنے کے لئے عوام کی خاطر اپنی مرضی کی قربانی دینی ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں مزے عوام اور بادشاہوں کے اور خواری عوام اور بادشاہوں کے سہاروں کی ۔
عوام کا کام بادشاہوں کی مرضی پر اگر چلنا نہیں ہے تو پھر بادشاہوں کا کام بھی عوام کی خاطر اپنی مرضی کی قربانی دینا نہیں ہے ۔ عوام اپنی مرضی کرنا پہلے شروع کر دیں یا بادشاہ پہلے اپنی مرضی پہلے کرنا شروع کر دیں، دونوں کو اپنی مرضی کر گزرنے کیلئے سہارے مل جایا کرتے ہیں ۔ مزے سہاروں کے ہو جاتے ہیں مگر خواری عوام اور باشاہوں کی ہو جاتی ہے ۔
سہاروں کی اب مرضی ہے کے عوام کو آمریتی جمہوریت کے خواب دکھا کر بادشاہوں کی جمہوری آمریت کو دوام دیں یا عوام کو جمہوری آمریت کے خواب دکھا کر بادشاہوں کی آمریتی جمہوریت کو دوام دیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
عوام اور بادشاہوں کے سہارے بنیں جی ۔ بات بیستی والی ہے پر عوام اور بادشاہت میں بھی تو خواری ہے ۔
Tuesday, January 24, 2012
پرائیویسی: چسکے اور رزق کا لین دین ۔
لعنت اور پھٹکار کر کے چسکے لینے والے دوسروں کی پرائیویسی میں اپنے مخل کا ہونا پسند کرتے نظر آتے ہیں یعنی بلیک میلرز کے رزق میں لات مارتے ہیں ۔ مگر جب اپنے آپ کو ویسی ہی لعنت اور پھٹکار سے بچانے کیلئے اپنی پرائیویسی میں دوسروں کے مخل کا ہونا پسند نہیں کرتے ہیں تو بلیک میلرز کے رزق میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں ۔
بلیک میلنگ کر کے رزق حاصل کرنے والے دوسروں کی پرائیویسی میں اپنے مخل کا ہونا پسند نہیں کرتے نظر آتے ہیں یعنی لعنت اور پھٹکار کرنے والوں کے چسکے میں لات مارتے ہیں ۔ مگر جب اپنے آپ کو ویسی ہی بلیک میلنگ سے بچانے کیلئے اپنی پرائیویسی میں دوسروں کے مخل کا ہونا پسند کرتے ہیں تو لعنت اور پھٹکار کرنے والوں کے چسکے میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
پرائیویسی اپنی ہو تو چسکا اور رزق دوسروں کا اور جب پرائیویسی دوسروں کی ہو تو چسکا اور رزق ایک ساتھ ۔
Friday, January 20, 2012
کامپلیمنٹس کے کامپلیمنٹس ۔
کامپلیمنٹس کے کامپلیمنٹس، میتھس میں تو ضرور سنے ہونگے مگر ریئیلیٹی کے کامپلیمنٹس شائد کے نا سنے ہوں ۔
اپنی اخلاقی اخلاقیات کو اخلاقی اخلاقیات منوا تو لیا گیا تھا لیکن ثابت وہ غیر(اخلاقی اخلاقیات) یعنی غیر اخلاقی اخلاقیات ہی ہو پائیں ہیں جبکے دوسروں کی اخلاقی اخلاقیات کو غیر اخلاقی اخلاقیات منوا تو لیا گیا تھا لیکن ثابت وہ غیر(غیر اخلاقی اخلاقیات) یعنی اخلاقی اخلاقیات ہی ہو پائیں ہیں ۔ دوسروں کی غیر اخلاقی اخلاقیات کو غیراخلاقی اخلاقیات منوا تو لیا گیا تھا لیکن ثابت وہ غیر(غیر اخلاقی اخلاقیات) یعنی اخلاقی اخلاقیات ہی ہو پائیں ہیں جبکے اپنی غیر اخلاقی اخلاقیات کو غیر اخلاقی اخلاقیات منوا تو لیا گیا تھا لیکن ثابت وہ غیر(غیر اخلاقی اخلاقیات) یعنی اخلاقی اخلاقیات ہی ہو پائیں ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
زرا محسوس کر کے تو دیکھیں، کامپلیمنٹس کے کامپلیمنٹس روشن ہوگئے کے نہیں ؟
Sunday, January 15, 2012
کمظرفی کا سواد ۔
جیسے اپنی خوشی کو خود ہی اپنا غم بنانا اور پھر اسکا قصوروار کسی اور کو قرار دینا ایک نارمل انسانی رویے کی نشانی ہے ۔ ویسے ہی اپنے غم کو خود سے اپنی خوشی بنانا اور پھر اسکو کسی اور کی خوشی قرار دینا بھی ایک نارمل انسانی رویے کی نشانی ہے ۔ کمظرفی، ان نارمل رویوں کو اپنے لئے تو نہیں مگر دوسروں کے لئے لازمی سمجھنا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
کمظرف ہوتے ہوئے کسی دوسرے کمظرف کو کمظرف کہنا واقعی سواد لینا ہوا کرتا ہے ۔
Thursday, January 12, 2012
آمریت اور جمہوریت کا تسلسل ۔
عوام کو ہمیشہ ہی ہیروز اور انکی باقیاتی لیڈروں سے امیدیں رہی ہیں اور عوام کی امیدوں کبھی پوری بھی نہیں ہوئی ہیں ۔ امیدیں تو ان ہیروز کو ہوا کرتی ہیں جو عوام کی مدد سے عوام ہی کو زبردستی بیوقوف بنا سکنے کی طاقت اور اختیار رکھنے والوں انسانوں کی ایک نئی قسم کے بیوقوف انسان بنانے کی سوچ رہے ہوتے ہیں ۔ جبکے اصل لیڈر تو وہ ہوتے ہیں جو ان بیوقوف انسانوں کو مزید بیوقوف بنا سکیں جو عوام کو زبردستی بیوقوف بنا سکنے کی طاقت اور اختیار رکھتے ہیں ۔
تاریخ میں آج تک ایسا نظام سامنے نہیں آیا جسے عوام نے واقعی اپنی مرضی اور خوشی سے بنایا ہو ۔ ایسے نظام کو چلانے والوں کو منتخب کیا ہو اور پھر اس نظام کو اور اسے چلانے والوں کو پروٹیکٹ بھی کیا ہو ۔ جب سبھی کسی ایک واضع اخلاقی دائرے میں کام کر رہے ہوں تو نا ان پر حکومت کی جا سکتی ہے اور نا ہی کسی کو حکومت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومت کو ضروری قرار دینے کیلئے ایسے سسٹمز کو ہی ڈیویلوپ کیا جاتا ہے جو عام کو سرو کرنے کے نام پر خواص کو ہی سرو کیا کریں ۔
جب رائٹ کا انڈیکیٹر دے کر لیفٹ کو مڑنا یا لیفٹ کا انڈیکیٹر دے کر رائٹ کو مڑنا جائز بھی قرار دینا ہو تو ایسے سسٹمز کو پروٹیکٹ اور فردر ڈیویلپ کرنے کیلئے جس قسم کی دانشمندیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کیلئے تیار کی گئی ٹیکسٹ بکس میں واضع طور پر لکھی بھی نہیں جاتیں ۔ ڈنڈے چلا کر آمریتیں آئیں اور انہوں نے خواب بھی دکھائے مگر عوام کو خوش نہیں رکھ سکے ۔ خواب دکھا کر جمہوریتیں آئیں اور انہوں نے ڈنڈے بھی چلائے مگر عوام کو خوش نہیں رکھ سکے ۔
جو قومیں ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہوں اور دوسری قوموں کا استحصال کر کے اپنی قوم کی فلاح و بہبود بھی کر رہی ہوں وہاں آمریت بھی اخلاقی جمہوریت کہلا سکتی ہے اور جمہوریت بھی اخلاقی آمریت کہلا سکتی ہے ۔ ایسی آمریتوں یا جمہوریتوں کو عوام کی بجائے دوسری قوموں سے خطرات ہوا کرتے ہیں ۔ ان خطرات سے نپٹنے کیلئے جو محافظ رکھنے پڑا کرتے ہیں وہ قوم پر بوجھ بھی نہیں ہوتے ہیں اور حکومت کرنے والوں کی حفاظت بھی کرتے ہیں ۔
اور جو قومیں تنزلی کی راہ پر بھی گامزن ہوں اور دوسری قوموں کی فلاح کر کے اپنی قوم کا استحصال بھی کر رہی ہوں وہاں آمریت بھی غیر اخلاقی جمہوری آمریت ہی ہو سکتی ہے اور جمہوریت بھی غیر اخلاقی آمریتی جمہوریت ہی ہو سکتی ہے ۔ ایسی آمریتوں یا جمہوریتوں کو دوسری قوموں کی بجائے عوام سے خطرات ہوا کرتے ہیں ۔ ان خطرات سے نپٹنے کیلئے جو محافظ رکھنے پڑتے ہیں وہ قوم پر بوجھ بھی ہوتے ہیں اور حکومت کرنے والوں کی حفاظت بھی نہیں کرتے ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
رزق دینے کے نام پر آزادیاں چھین لینا ایک غیر اخلاقی آمریت اور آزادیاں دینے کے نام پر رزق چھین لینا ایک غیر اخلاقی جمہوریت کا کمال ہوتا ہے اور ایسا کسی غیر اخلاقی قوم کے ساتھ ہی ہو سکتا ہے ۔
Wednesday, January 11, 2012
آمریت اور جمہوریت ۔
جب اخلاقی آمریت کا ایک دور اچھا گزر جائے تو لوگ کہنا شروع ہو جاتے ہیں کے آمریت چاہے جیسی بھی ہو اور کتنی ہی بدصورت کیوں نہ ہو اس میں بہتری ہی ہوتی ہے ۔ یہ بات دنیا نے تسلیم کرلی ہے کے جمہوریت کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اس کے نتائج بھیانک ہی نکلتے ہیں ۔ جو آج ہم سب بھگت رہے ہیں ۔ ایک نئی اخلاقی آمریت اور کچھ عرصے کو اس کا تسلسل ہی ایک نئی اخلاقی جمہوریت کو جنم دیتا اور پروان چڑھاتا ہے ۔ اور جب اخلاقی جمہوریت کا ایک دور اچھا گزر جائے تو لوگ کہنا شروع ہو جاتے ہیں کے جمہوریت چاہے جیسی بھی ہو اور کتنی ہی بدصورت کیوں نہ ہو اس میں بہتری ہی ہوتی ہے ۔ یہ بات دنیا نے تسلیم کرلی ہے کے آمریت کتنی ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، اس کے نتائج بھیانک ہی نکلتے ہیں ۔ جو آج ہم سب بھگت رہے ہیں ۔
یہی اخلاقی جمہوریت وقت گزرنے کے ساتھ غیر اخلاقی ہوتی چلی جاتی ہے ۔ سائیکلز اس وقت شروع ہو جاتے ہیں جب ایک غیر اخلاقی جمہوریت کو ایک غیر اخلاقی آمریت ریپلیس کرتی ہے اور یہ غیر اخلاقی آمریت ایک مزید غیر اخلاقی جمہوریت سے ریپلیس ہو جاتی ہے ۔ یہ سلسلہ ختم ہونے کے بعد ایک نئی اخلاقی آمریت کے آ جانے پر دوبارا سے شروع ہو جایا کرتا ہے ۔ یہ دنیا پہلی دفعہ ایسے دور سے گزر رہی ہے جب ایک نئی اخلاقی آمریت کے آ جانے کے امکانات بالکل ہی ختم ہو گئے ہیں ۔ اب تو بس غیر اخلاقی ہی چلے گی بھلے ہی وہ غیر اخلاقی جمہوری آمریت ہو یا وہ غیر اخلاقی آمریتی جمہوریت ہو کیونکے غیر اخلاقی جمہوریت بھی آمریتی جمہوریت بن سکتی ہے اور غیر اخلاقی آمریت بھی جمہوری آمریت بن سکتی ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
غیر اخلاقی آمریت ہی جمہوری آمریت ہوتے ہوئے جمہوریت کہلا سکتی ہے ۔ جبکے غیر اخلاقی جمہوریت نے آمریتی جمہوریت بن بھی آمریت ہی کہلوانا ہوتا ہے ۔
Thursday, January 5, 2012
مجرم | ملزم اور ہیرو | ولن ۔
سنا ہے کے ملزم وہ انسان ہوتا ہے جو سسٹم کو ڈیسٹیبلائز کرنے کی کوشش کے الزام کے بعد سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور انسانوں کی فہم کے مطابق سزا ملے بغیر اپنی سزا کاٹنے کا بطور ہیرو ایک خوشگوار سا یا بطور ولن ایک ناخوشگوار سا انتظار کر رہا ہوتا ہے ۔ جبکے سابقہ ملزم وہ انسان ہوتا ہے جو سسٹم کو ڈیسٹیبلائز کرنے کی کوشش کے الزام کے بعد سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور پرانے انسانوں کی فہم کے مطابق ہیرو قرار پا چکا ہوتا ہے مگر سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور نئے انسانوں کی فہم کے مطابق کسی وقت بھی ولن قرار دیا جاسکتا ہے ۔
مجرم وہ انسان ہوتا ہے جو سسٹم کو ڈیسٹیبلائز کرنے کی کوشش کے الزام کے بعد سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور انسانوں کی فہم کے مطابق بطور ولن اپنی سزا کاٹ رہا ہوتا ہے ۔ جبکے سابقہ مجرم وہ انسان ہوتا ہے جو سسٹم کو ڈیسٹیبلائز کرنے کی کوشش کے الزام کے بعد سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور پرانے انسانوں کی فہم کے مطابق بطور ولن اپنی سزا کاٹ چکا ہوتا ہے مگر سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور نئے انسانوں کی فہم کے مطابق کسی وقت بھی ہیرو قرار دیا جاسکتا ہے ۔
سابقہ مجرم کے چاہنے والے اسکی زندگی میں ہی یا اسکے مرنے کے بعد اسے ایک نئے ہیرو کا درجہ دیتے ہوئے سسٹم کو کچھ دیر کیلئے ڈیسٹیبلائز کرنے کے بعد سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور نئے انسانوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں ۔ اس نئے ہیرو جو کے سابقہ مجرم تھا کو نا چاہنے والے ایک ملزم، جو کے بطور ولن ایک ناخوشگوار سا انتظار کرتا رہا ہو، کو بطور نیا ہیرو سامنے لا کر سسٹم کو کچھ دیر کیلئے ڈیسٹیبلائز کرنے کے بعد سسٹم کو سٹیبلائزڈ فارم میں رکھنے پر مامور نئے انسانوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
ایک ملزم جو بطور ولن ایک ناخوشگوار انتظار کے بعد تاحیات ہیرو رہے، اسکو مرنے کے بعد تو کسی وقت بھی بڑے سے بڑا ولن قرار دیا جا سکتا ہے مگر اس سے بڑا نیا ہیرو نہیں لایا جا سکتا ۔
Thursday, December 29, 2011
افلاطونز اور ایریسٹوکریٹس ۔
سیلف کاؤنٹرنگ آرگومنٹس کو ڈینائی بھی نہیں کیا جا سکتا اور ایسے آرگومنٹس کو نقص امن قرار دے کر رد کر دینا بھی انتہائی مشکل ہو جایا کرتا ہے ۔ باقی کے کسی بھی آرگومنٹ کا کم ازکم ایک اپوزنگ یا کاؤنٹر آرگومنٹ ضرور ہوا کرتا ہے ۔ کسی بھی ایسے آرگومنٹ کو منوانے کیلئے اپوزنگ یا کاؤنٹر آرگومنٹ کو زبردستی سپریس کرنا پڑا کرتا ہے ۔ یہ صرف اس وقت ہی پاسیبل ہوا کرتا ہے جب ایسا آرگومنٹ پیش کرنے والے کے ساتھ اپوزنگ یا کاؤنٹر آرگومنٹ کو سن کر سمجھنے کی بجائے صرف ( ہنسنے ) یا ( لعنت بھیجنے ) والے اور مار دھاڑ کرنے والے ہوں ۔
جو ساتھی اپوزنگ یا کاؤنٹر آرگومنٹ کو سمجھنے کے بعد آرگو کرنے والے کے آرگومنٹ پر آئی ہوئی اپنی ہنسی روک لینگے ۔ انکے لئے آرگو کرنے والا بغیر مشہوری کے ہی ڈفر اعظم ہو جایا کرتا ہے ۔ اب ایسے ساتھیوں کی مرضی ہے کہ وہ آرگو کرنے والے کے دشمنوں پر بھی ہنسیں اور آرگو کرنے والے کی مدد سے ہی اپنے ذاتی دشمنوں پر بھی سامنے آئے بغیر ہنس لیا کریں ۔ ایسے ساتھی ایریسٹوکریٹس ہوا کرتے ہیں اور انکی مرضی ہوتی ہے کے اپنے ساتھیوں کیساتھ رہتے ہوئے مینیپولیٹرز کہلائیں یا دشمنوں سے جا ملنے کی صورت میں غدار کہلائیں ۔ مینیپولیٹرز کے طعنے صرف ان مینیپولیٹیبلز ساتھیوں پر ہی اثر کرنے والے ہوتے ہیں جو افلاطون بننے میں ذیادہ دیر نہ لگاتے ہوں ۔ مینیپولیٹر بطور ایریسٹوکریٹ ہی اچھا لگا کرتا ہے اور انڈیٹیکٹیبل بھی رہا کرتا ہے ۔ سامنے آ جائے تو اپنے ساتھی افلاطونوں کا نیا ڈفر اعظم بننے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
افلاطونوں کی افلاطونی تو چلتی ہی اس پیٹرول سے ہے جو انہیں اپنے مینیپولیٹنگ ساتھیوں کی شاباشوں کی صورت میں ملا کرتا ہے ۔ افلاطونز اپنے آپ کو سیلف مینیپولیٹرز بھی کہہ سکتے ہیں ۔ جہاں وہ مینیپولیٹرز کے فاعدے کیلئے دوسروں کے بارے میں سچ بولا کرتے ہیں وہیں وہ اپنے ذاتی نقصان کیلئے اپنے بارے میں جھوٹ بھی بول دیا کرتے ہیں ۔ جتنے جوتے کسی دوسرے نظریئے والے افلاطون کو مارا کرتے ہیں اتنے ہی جوتے کسی اور ہی نظریئے والے افلاطون سے کھا بھی لیا کرتے ہیں ۔ مختلف یا کمپیٹنگ نظریات پر یقین رکھنے والے افلاطونز ہی قول و فعل میں تضاد کے ایک دوسرے کو طعنے بھی دیتے ہیں ۔ خوش نا ہوتے ہوئے بھی یہ افلاطون دوسروں کو اپنے آپ کے خوش ہونے کا کھسیانے انداز میں بتایا کرتے ہیں ۔ یعنی اپنے آپ سے ہی جھوٹ بھی بول رہے ہوتے ہیں اور بڑی ہی ڈھیٹائی سے اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے بھی ہوا کرتے ہیں ۔
اب کون ہے افلاطون اور کون ہے ایریسٹوکریٹ ۔ کمپیٹنگ کیمپس کے افلاطون تو آپس میں لڑیں اور مریں ۔ ایریسٹوکریٹس اپنے ہی افلاطونوں پر چھپ چھپ کر ہنسیں اور جب چاہیں سائڈز سوئچ کر لیا کریں یا دشمن پارٹی کے ایریسٹوکریٹس کو معاف کر کے اپنے ساتھ ملا لیا کریں ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
مینیپولیٹڈ انسان ہی آبجیکٹیویٹی کو سیلف مینیپولیشن کیلئے آبجیکٹیولی استعمال کر سکتے ہیں جبکے مینیپولیٹرز آبجیکٹیویٹی کو مینیپولیٹڈ انسانوں کی مینیپولیشن کیلئے ہی آبجیکٹیولی استعمال کیا کرتے ہیں ۔
Friday, December 23, 2011
یوز یا ابیوز ۔
انسان اس دنیا میں دوسرے انسانوں کو یوز یا ابیوز کرنے کے واسطے ہی تو آتے ہیں ۔
ابیوز ہوتے ہوئے یوز کر لینا اور ابیوز ہوتے ہوئے یوز بھی نا ہو پانا جاہل ہونے کی علامات ہیں ۔ جاہل قسم کے ڈفر کا کام ابیوز ہوتے ہوئے یوز ہو جانا اور ابیوز ہوتے ہوئے یوز بھی نا کر پانا ہے ۔ جبکے جاہل قسم کی پھپھے کٹنی نے بنا ابیوز ہوئے یوز ہو جانا اور بنا ابیوز ہوئے یوز بھی نا کر پانا ہے ۔
ابیوز کرتے ہوئے یوز کر لینا اور ابیوز کرتے ہوئے یوز بھی نا ہو پانا بدتمیز ہونے کی علامات ہیں ۔ بدتمیز قسم کے ڈفر کا کام ابیوز کرتے ہوئے یوز ہو جانا اور ابیوز کرتے ہوئے یوز بھی نا کر پانا ہے ۔ جبکے بدتمیز قسم کی پھپھے کٹنی نے بنا ابیوز کئے یوز ہو جانا اور بنا ابیوز کئے یوز بھی نا کر پانا ہے ۔
پھپھے کٹنی کا کام تو بنا ابیوز ہوئے یا بنا ابیوز کئے یوز بھی کر لینا ہے اور بنا ابیوز ہوئے یا بنا ابیوز کئے یوز بھی نا ہو پانا ہے ۔
آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔
پھپھے کٹنی بننا سیکھیں جی، جہالت یا بدتمیزی میں نرا نقصان ہی تو ہے ۔
