Friday, February 25, 2011

مسیحاؤں کی ٹرائینگلز ۔


مسیحا جو کسی دوسرے مسیحا سے نہ تو الجھتا ہو، نہ جھوٹ بولتا ہو اور نہ ہی مرنے سے ڈرتا ہو ۔

جاہل جو نبیوں کو فالو کرے دجال بننے کی نیت کے بغیر ۔ مزہبی قسم کے انسان جو فلاسفرز، دھرئیوں اور سائنسدانوں وغیرہ کو برا بھلا نہیں کہتے ۔

بدتمیز جو ان ڈینائیبل فیکٹس پر بیس کرے نبی بننے کی نیت کے بغیر ۔ فلسفی، سائنسدان اور دھرئے قسم کے انسان جو نبیوں کی توہین نہیں کرتے ۔

پھپھے کٹنی جو بدتمیز پر جاہل کو یا جاہل پر بدتمیز پریفر نا کرے ۔ دانا انسان، المشہور دانشور جو جاہلوں کو ہمیشہ سچا اور بدتمیزوں کو ہمیشہ جھوٹا یا بدتمیزوں کو ہمیشہ سچا اور جاہلوں کو ہمیشہ جھوٹا نہ کہیں ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

جاہل ، بدتمیز اور پھپھے کٹنی سمبولک ہیں اور حقارت کی سینس میں قطعا استعمال نہیں ہوئے ہیں ۔ ( اڈییپٹیشن ایز سجیسٹڈ بائی محمد وقار اعظم ) ۔

اس بلاگ پر مسیحا اور ہیرو کی اپنی ہی یونیک ڈیفنیشنز ہیں ۔ ( اڈییپٹیشن ایز سجیسٹڈ بائی ڈاکٹر جواد خان ) ۔

Thursday, February 24, 2011

مایوس کن جنگ ۔


آخری اور مایوس کن ترین جنگ صرف مسیحاؤں نے جیتنی ہے اور انمیں کوئی بھی ہیرو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس آخری جنگ کے بعد کسی کو ہیرو بننے کا کوئی موقعہ ملیگا ۔ نہ ہی کوئی بھولا ہوگا کریئیشنسٹس اور ایوولیوشنسٹس کو ستانے کو ۔ کریئیشنسٹس اور ایوولیوشنسٹس کو بس یہی کہا جایا کریگا ۔ وہ تو لوگ ہی تھے ایسے جو ایسا نہیں چاہتے تھے ۔

اس آخری جنگ کے ختم ہونے سے پہلے ہیروز نے پیدا ہوتے ہی رہنا ہے کبھی ایوولیوشنسٹس کی مدد کیلئے اور کبھی کریئیشنسٹس کی مدد کو ۔ کریئیشنسٹس نے آزادیوں کی بلیک مارکیٹنگ کیلئی اس دنیا میں آتے رہنا ہے اور ایوولیوشنسٹس نے آزادیوں کی قیمت کو بڑھاتے چلے جانے کو ۔ بھولوں اور بھولیوں کا کام ہے آپس میں بھی لڑنا اور ہیروز کی پرستش بھی کرتے چلے جانا ۔

نئے ایوولیوشنری سسٹمز نے نئی آزادیوں کی آفرز کیساتھ پرانی آزادیوں کی قیمت بڑھانی ہوا کرتی ہے اور اس کام سے پہلے کریئیشنسٹس نے آزادیوں کو سلب کر کے پرانی آزادیوں کی بلیک مارکیٹنگ کو فروغ دینا ہوا کرتا ہے ۔ فیئرسٹ مارکیٹنگ الگوردھم کا پتا چلا کیا ؟

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Wednesday, February 23, 2011

دی ریسٹنگ مائیتھالوجی ۔


کریئیٹر نے ہر چیز میں ہر انسان کا برابر کا حصہ رکھا تھا ۔ اگر کوئی ڈسیبلڈ تھا یا اپنا حصہ والنٹیریلی چھوڑنا چاہتا تھا تو اسکا حصہ باقی سب میں برابری کی سطح پر تقسیم ہوا کرتا تھا ۔ نئے آنے والوں یا واپسی کی راہ کو چوز کرنے والوں کو ویلکم کیا جاتا تھا ۔صرف انٹیگریشن ہی تھی اور ڈفرنسیئیشن کو کوئی جانتا تک نہ تھا ۔

ایوولیوشنسٹس اور کریئیشنسٹس نے مل کر جو ڈسیبلڈ نہیں بھی تھے انکو بھی ڈسیبلڈ بنانے کیلئے کریئیٹر تک کو بھی مسیحا سے ہیرو بنا دیا ۔ نہ جانے کیا کیا کہانیاں بنیں ۔ کون کون سے سیارے نہیں چھوڑے اور اب ہے کے ڈھونڈے سے بھی نیا سیارہ ملنے کو نہیں ۔ کائنات ہے کے اب سکڑنا بھی شروع ہو گئی ہے ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Monday, February 21, 2011

مسیحا اور ہیرو ۔


مسیحا بالکل عام سے انسان ہوا کرتے ہیں اور عام انسانوں کے جیسی ہی زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جائیا کرتے ہیں ۔ یہ عام سے انسان اپنی لالچ کو اپنی ضرورت اور دوسرے انسانوں کی ویسی ہی ضرورت کو لالچ نہیں کہا کرتے ۔ نہ ہی وہ اپنے پرسنل گینز کیلئے ایسے قوانین کی بات کرتے ہیں جن کے بدولت انکی سوپیرئیوریٹی کیلیئے گنجائش نکل آیا کرے ۔

ہیروز خاص انسان ہوا کرتے ہیں اور خاص انسانوں کی طرح زندگی گزارا کرتے ہیں ۔ ہیروز کی پرستش انسان اپنی سوپیرئیوریٹی واضع کرنے اور پرسنل گینز حاصل کرنے کیلئے کیا کرتے ہیں ۔ ہیروز کی ہیروئکس انسانوں کو اپنی لالچ کو اپنی ضرورت کہنے اور دوسرے انسانوں کی ویسی ہی ضرورت کو لالچ ڈکلیئر کرنے میں مددگار ثابت ہوا کرتی ہیں ۔

ہم کو منزل نہیں بلکہ راہنما چاہیے کا نعرہ تو کسی راہنما کو مسیحا سے ہیرو بنانے والے ہی لگایا کرتے ہیں ۔ راہنما کو منزل نہ ملی ہو تو اسکو راہنما ماننا بھی کس نے ہوا کرتا ہے جی ۔ ہسٹری میں بہرحال ایسے انسانوں کو بھی پہلے راہنما اور مسیحا مانا گیا اور پھر ہیرو کا سٹیٹس دے دیا گیا جنہیں منزل نہیں بھی ملی ۔

جنہیں منزل ملی ان میں سے کچھ راہنماؤں نے تو اپنی زندگی میں ہی اپنے آپ کو مسیحا سے ہیرو بنا کے دکھایا ۔ اور جن راہنماؤں نے ایسا نہیں کیا انہیں انکے مرنے کے بعد اسی نعرے کے زور پر مسیحا سے ہیرو بنا دیا گیا ۔ بہتر نہیں کے راہنما اپنی زندگی میں ہی مسیحا سے ہیرو بن جائیا کریں ؟

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Thursday, January 27, 2011

دجال اور اسکی خواہشیں ۔


دجال صاحب نہ صرف ہر اس عورت سے میٹ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں جو صرف اور صرف ایک ہی میٹ چاہے گی ۔ بلکہ وہ ہر مرد کی زنانہ اور مردانہ میٹ بننے پر بھی قادر ہونگے ۔ اور یہ سب کچھ وہ عورت اور مرد دونوں کی پسندیدہ شکلوں میں آکر کرنا چاہیں گے ۔ ایسا جنت میں بھی ہوسکتا ہے اور اس دنیا میں بھی ۔

اس دھوکے سے بڑھ کر بھی کوئی دھوکہ پاسیبل ہے کیا ؟

ہیلو ۔ ہائے ۔ اےاواے ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

کریئیشن اور ایوولیوشن ۔


ایوولیوشنسٹس کو خدا نہیں پسند نہ ہی اسکے دیئے ہوئے اخلاقیات ۔ کریئیشنسٹس کے مطابق ایوولیوشنسٹس کیلئے بعدالموت مصیبت ۔ اس دنیا میں اچھے ایوولیوشنسٹس بھی ہیں اور اچھے کریئیشنسٹس بھی ۔ برے ایوولیوشنسٹس بھی ہیں اور برے کریئیشنسٹس بھی ۔ اچھے بروں کو برا کہیں اور برے کہیں کہ ہمیں برا کہنے والے خود برے ہیں ۔ شیطان بظاہر برے کریئیشنسٹس کے ساتھ اور شائد اچھے ایوولیوشنسٹس کے ساتھ بھی ۔ خدا بظاہر اچھے کریئیشنسٹس کے ساتھ اور شائد برے ایوولیوشنسٹس کے ساتھ بھی ۔

خدا اور شیطان نہ تو پروو کیئے جا سکتے ہیں نہ ہی ریفیوٹ ۔ لڑائی پھر بھی ہے جی اور بہت سارے کریئیشنسٹس اور بہت سارے ایوولیوشنسٹس اپنی ہی مرضی کی باتوں کو ثابت کرنے کیلئے آپس میں لڑنے کو ہر دم تیار بھی رہتے ہیں ۔ سروائیول آف دی فٹسٹ پر دونوں ہی پارٹیوں کو بیلیو کرتے نہیں دیکھیں کیا ؟ اونچ نیچ دونوں میں ہی نہیں کیا ؟ ایوولیوشنسٹس سے کریئیشنسٹس کے اور کریئیشنسٹس سے ایوولیوشنسٹس کے سوئنگز سنے نہیں کیا ؟ کریئیشنسٹس اور ایوولیوشنسٹس نے کہیں باریاں ہی تو نہیں لگائی ہوئیں آپس میں ؟

خاص لوگ کریئیشن نے بھی پیدا کیئے اور اب ایولیوشن بھی کچھ ایسی ہی کہانی سنانے کو نکل پڑی ہے ۔ دل کی بجائے دماغ اب خاص و عام انسانوں میں ڈفرنسیئیشن کا باعث ہے جسے جینیٹکس ایکسپلین کر رہی ہے ۔ ناانصافی اور بینیازیوں کا ذمہ اب کریئیشن سے ایولیوشن کو منتقل ہو گیا ہے ۔ جینز ایک دفعہ پوری طرح سمجھ میں آگئے تو ریجینیریٹنگ باڈیز والے انسان بھی بن جائیں گے اور اگر چیونٹیوں سے کلون کردیئے گئے تو پرفیکٹ ہیومنز سرونگ دی پرفیکٹ ہیومن والی بات بھی پاسیبل ہو جائے گی ۔

اگر ایسا ہو ہی گیا تو ہر انسان کی ہمیشہ زندہ اور جوان رہنے کی خواہش بھی پوری ہو جائےگی ۔ سائنس کی مدد سے خدا سے ملاقات بھی ہو جائےگی اور شیطان کا انت بھی ۔ شیطان کا انت ہوگا تو افسوس کا ہی مقام ۔ پر کس کیلئے ؟ صرف پرفیکٹ ہیومنز کیلئے ہی نا ۔ اور تب صرف پرفیکٹ ہیومن ہی اپنی شکل بدل بدل ان پر اپنی مرضی چلائیا کرے گا ۔

ریجینیریٹنگ باڈیز والے پھل دار پودے ہونگے اور ساتھ میں پیٹ اینیملز بھی ۔ کچھ ہائبرڈز بھی ہونگے جو فلتھ کو ریسائکل کردیا کرینگے ۔ آرڈر بھی اسی کا ہوگا اور ڈسکریشن بھی اسی کی چلیگی ۔ جس طرح سے چاہے گا عبادت بھی کروالیا کرے گا ۔ نہ کوئی سوال پوچھے گا اور نہ ہی کوئی اپنی مرضی کا کچھ طلب کریگا ۔

کیا ایسا ہی ہوگا ؟ ارے بابا نہیں اس سے بھی بڑھ کر ہوگا جی ۔ فالحال ایوولیوشنسٹس کا سرمایہ کم پڑ رہا ہے اور سرمایہ کو کانسنٹریٹ کرنے کیلئے انہیں کریئیشنسٹس کی مدد کی اشد ضرورت ہے ۔ کریئیشنسٹس کا تو کام ہی یہی ہے کہ عوام کو کم مزدوری پے راضی کرنا اور سرمایے کو اکٹھا کر کے دوبارہ سے ایوولیوشنسٹس کے حوالے کرنا ۔

اگر کچھ نہیں ہونا تو اس چڑیا کا نام ہے انصاف ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Tuesday, January 25, 2011

بھولا اور اسکا بھولپن ۔


بھولے کا کام ہی ہے کہ اپنی عقل بالکل استعمال نہ کرے ۔ اگر بھولے نے بھول کر بھی یہ غلطی کرلی تو اسکا بھولپن ہمیشہ کیلئے ختم ۔ بھولے کا کام ہے کے اپنے بھولپن کو قائم رکھنے کیلئے مزید بھولے بناتا رہے ۔ جسکو بھی اپنے جیسا بھولا بنا سکتا ہو بنا کے چھوڑے، بھلا ہی اس عظیم کامیابی میں اسکے اصلی اپنوں کا بھی بیڑا غرق ہو جائے ۔ وہ بھولا ہی کیا جو اپنے غیر اخلاقی فعل کو اخلاقی ثابت کرنے کیلئے کسی بھی غیر اخلاقی فعل کو جائز نہ سمجھتا ہو ۔ بھولے کی اپنی زاتی زندگی کی بھی کیوں بھلا اہمیت ہو ۔ بھولا مرے بھی تو کیوں نہ اپنے ہی سب سے بڑے اصلی دشمن کی تسکین کا سبب نہ بنے ۔

انسان اگر اس دنیا میں ان بھولوں کی غلطی سے آ ہی جائے تو یہ بھولے اسکو اپنے جیسا اصلی اور سچا بھولا بنانے کا حق اور اختیار دونوں ہی رکھتے ہیں ۔ اگر کوئی انسان ان بھولوں کے بھولپن کو ماننے سے انکار کردے تو یہ بھولے اسکے ساتھ ہمدردی کا مظاہرہ کریں گےاور اس انسان کو اپنے سے بڑے بھولوں کے حوالے کردیں گے ۔ یہ بڑے بھولے اپنے پے ہی بنے ہوئے لطیفے سنا کر اسکا مزاق اڑائیں گے ۔ اپنے جیسے اور بڑے بھولوں کے ساتھ مل کے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے ہی مزاق کا سبب بنیں گے اور بڑی ہی ڈھٹائی سے یہ بات ماننے سے بھی انکار کر دیں گے ۔

بھئی کیا کریں، بھولوں سے انسان کیسے پیدا کریں ۔ بھولوں کے ساتھ مل جل کے کام ہی چلا لیں ۔ یہ بھی بڑی ہی کامیابی ہو گی ۔ بھولوں میں پیدا ہو کے انسان بننا تو دور سوچنے اور سمجھنے کی کوشش کرنا بھی بڑا مشکل کام ہے ۔ اور تو اور کافی سارے بھولے بھی اب نئی قسم کے بھولپن کیلئے آسانی سے تیار نہیں ہوتے ۔ برا ہو ہمارے بھولے ابے کا جسے طاقت اور شراب کے نشے میں بھول گیا کہ ابھی میٹیریل ازم سے سنسر شپ ہٹانے کا ٹائیم نہیں ہوا ۔

مزے لینے دو بھائی میرے ۔ میں نے تو نہیں چھوڑنا یہ بھولپن ۔ تمہیں بھی کچھ نہیں حاصل ہونا بھولپن چھوڑ کے ۔ جیئو گے بھی زلیل ہو کے اور مرو گے بھی زلیل ہو کے ۔ تمہارے مرنے کے بعد تمہارے بھولے بنے نہ رہنے کے بھیانک انجام کی ہر روز نئی ہی کہانیاں بنیں گی ۔

اگر بھولے بنانے کا طریقہ تیری سمجھ میں آ ہی گیا ہے تو آپے سے باہر نہ ہونا ۔ اونچی ہواؤں میں نہ اڑنا بڑی ہی زور سے گرو گے ۔ بھولوں کو جلد ہی اپنے آپ ہی پر ہنسوانے کا ایک اور لطیفہ ملے گا ۔ شاباش لین میں لگ جاؤ اور اپنی باری کا انتظار کرو ۔ چانکیہ بنو اور اس بات کا زکر کسی سے نہ کرنا ۔ جلد ہی تمہیں بھی اپنی مرضی کے بھولے بنانے کا موقعہ ملے گا ۔ پھر بتانا بیٹا جو تم ان بھولوں کو انسان بنانے میں کامیاب ہوگئے ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Saturday, January 22, 2011

ہیروز اور ولنز ۔


یہ دنیا کیا ہے ؟ یہاں کیا رائٹ ہے اور کیا رونگ ہے ؟ کوئی ایک کامیاب کیوں ہے اور کوئی دوسرا ناکام کیوں ہے ؟ کون واقعی ہیرو ہے اور کون واقعی ولن ہے ؟ کیا واقعی ہیروز کو فالو کرنے والے ذیادہ تر ناکام اور ولنز کو فالو کرنے والے ذیادہ تر کامیاب نہیں ہوتے ؟ ناکام لوگ نہ صرف آپس میں لڑتے ہیں بلکہ کامیاب لوگوں کے لئے بھی ۔

کامیاب لوگوں کو کیا آپس میں کسی نے لڑتے ہوئے کبھی دیکھا ہے ؟ شائد فلموں اور کہانیوں میں ہی ایسا ہوا ہو کہ فرنٹ لائن پر لڑنے والے کسی ہیرو نے کبھی دنیا کو لیڈ کیا ہو ۔ کوئی ہیرو کبھی اپنی عوام کے لئے بھی لڑا ہے یا کہ عوام ہی اپنے ہیرو کو ہیرو بنانے کیلئے لڑی ہے ؟ کسی بھی عوام کو اسکے ہیرو نے کیا دیا ؟

عوام عوام ہی رہے اور ہیرو ہیرو ہی رہا ۔ ہیرو کے اخلاق اچھے ہوں یا برے ہیرو ہیرو ہی رہا اور کہیں اسنے عوام کو ہی تو ہیروز بننے سے نہیں روکا ہوا ؟ کہیں ہیرو کو ہیرو سجھتے ہوئے فالو کرنا ناکامی اور ولن کو ولن سمجھتے ہوئے فالو کرنا کامیابی تو نہیں ؟ طاقتور اور مجبور کردینے والوں کے ہیروز ہی ہیروز نہیں ہوتے کیا ؟

اپنا ہیرو دوسروں کیلئے ولن اور دوسروں کا ہیرو اپنے لئے ولن ۔ بھئی طاقتور اور مجبور کردینے والوں کا ہیرو کمزور اور مجبور ہوجانے والوں کا ہیرو کیوں نہیں ہو سکتا ؟ ہیرو کو یوز کرنا اور ایبیوز کرنا کن کے کام بہتر طور پر آتا ہے ؟ شائد انکے لئے جو ہیروز کے نام پر لوگوں کو آپس میں اور ولنز کے نام پر دوسروں سے لڑاتے ہیں ۔

جو جیت جاتے ہیں وہ نہ صرف اپنے ہیروز کو پروٹیکٹ کرتے ہیں بلکہ اپنے ولنز کو بھی ۔ اپنے ہیروز کو ولنز بنانے کا کام فاتح لوگ کیا کرتے ہیں ۔ اپنے ولنز کو مزید ولنز بنانے کیلئے پٹنے والی قوم میں ایسے نئے ہیرو پیدا کیئے جاتے ہیں جو نہ صرف اپنی قوم کے بہادر لوگوں کو فرنٹ لائن پر مروائیں بلکہ اپنی قوم کو ڈیپریسڈ بھی رکھیں ۔

بھئی مفتوح لوگ فاتح لوگوں جیسے ہو جائیں تو فاتح لوگوں کیلئے مسائل ہو جائینگے نا ۔ نیا کرنے کو اب کسی کے پاس کچھ بچیگا بھی کیا ؟ پر ایسا ہمیشہ ہو نہ سکا اور مفتوح نے آخر فاتح کی عادتیں اپنائیں ۔ مفتوح فاتح کے مسائل کا سبب بنا اور فاتح کے کسی اور کے ہاتھوں مفتوح ہونے کا سبب بھی ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Thursday, January 13, 2011

رائٹ اینڈ رونگ ۔


از رائٹ ریئلی رائٹ اینڈ از رونگ ریئلی رونگ ؟

اف سو، پرابلم سولوڈ ۔ ایگزٹ ۔

اف ناٹ سو دن ۔

رائٹ از ناٹ ریئلی رائٹ اینڈ رونگ از ناٹ ریئلی رونگ بیکاز رائٹ ہیز سمتھنگ رونگ اینڈ رونگ ہیز سمتھنگ رائٹ ۔

امپلائز

رائٹ ہیز سمتھنگ رونگ اینڈ رونگ ہیز سمتھنگ رائٹ ۔ دیٹس وائی رائٹ از ناٹ ریئلی رائٹ اینڈ رونگ از ناٹ ریئلی رونگ ۔

وائل پاسیبل ڈو فورسفلی جسٹیفائی رائٹ ایز ریئلی رائٹ اینڈ رونگ ایز ریئلی رونگ ۔

سیمپل رائٹ اینڈ رونگ فرام اینی نان یونیفارم اکنامکس اینڈ ایتھکس ۔

ری سٹارٹ ۔


آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Sunday, November 7, 2010

اسلام اور اسکی واپسی ۔


لگتا ہے کہ مسلمان ہی اسلام کے دنیا پر دوبارہ چھا جانے کو برا سمجھ بیٹھے ہیں اور انکا خیال ہے کہ یہ دوبارہ بھی ویسے ہی آئیگا جسطرح سے پہلے آیا تھا ۔ اسلام ایسے پرنسیپلز پر قائم پر ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوئے اور اسلام کو دوبارہ آنے سے کوئی روکے بھی نہیں روک سکتا ۔

آج اگر کچھ مسلمان ویسٹ کی دی ہوئی اخلاقی آزادیوں پر خوش ہیں تو انہیں ان آزادیوں کے ساتھ اپنی اور دوسرے انسانوں کی اکانومیکل فکروں سے مکمل طور پر آزاد ہونا بھی ہے کہ نہیں ۔ اسلام تو اسلام ہی نہيں اگر اپنے فالورز کو انکی اکانومی کی فکروں سے مکمل طور پر آزاد نہ کرائے ۔

اگر مسلمان خود سے ہی یہ نہ چاہ رہے ہوں تو اس صورت حال میں اسلام کو بھی واپس آنے کی جلدی نہیں ہونی چاہیے نا ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Friday, November 5, 2010

قومیں اور انکے عظیم انسان ۔


قوم اس ایبیلیٹی کا نام ہے جسکی مدد سے انسان اپنے ہی معاشرے میں وقت کے حساب سے ہونے والی ضروری تبدیلیوں کو ہوجانے سے روک دیا کرتے ہیں ۔ عظیم انسان اپنے آپ کو خود سے عظیم نہیں کہا کرتے ۔ وہ گزرے ہوئے عظیم انسانوں کو اچھے الفاظ میں نا صرف یاد کیا کرتے ہیں بلکہ انہی کے وضع کیئے ہوئے پرنسیپلز کو فالو کرتے ہوئے ایویلیبل ریسورسز کی مدد سے نئے ٹولز ڈیزائن کیا کرتے ہیں ۔

وہ ق‍وم ہی کیا جو ترقی کرے اور اپنی ترقی پر غرور بھی نہ کرے ۔ اپنے اس غرور کو جسٹیفائی کرنے کیلئے پہلے اپنے عظیم انسانوں کو مغرور بنانے والا کام کیا جاتا ہے ۔ پھر مینوپلیشن کے قابل دوسری قوموں کو مینوپلیٹ کیا جاتا ہے ۔ جب دوسری قوموں پر بس نہیں چل پایا کرتا تو اپنی ہی قوم کو مینوپلیٹ کرنا شروع کر دیا جاتا ہے ۔

بحیثیت قوم ترقی کی راہ دکھانے کا کام عظیم انسانوں کا ایک ہی گروپ کیا کرتا ہے اور انکے بعد کا کام عظیم انسانوں کا ایک اور گروپ کسی دوسری قوم میں پیدا ہو کے کیا کرتا ہے ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Thursday, November 4, 2010

سروائول اور سمجھ ۔


ذیادہ تر جانوروں کو تو سروائول اور میٹنگ سے ہی غرض ہوا کرتی ہے ۔ بہتر جانور اپنے آف سپرنگز کی سروائول کے لیئے کی جانے والی ایفرٹ کے حساب سے کلاسیفائی ہوا کرتے ہیں ۔ اب انسانوں کی سمجھ کا تعلق اگر اپنی سروائول اور میٹنگ سے اگر بڑھ کر ہے تو ایسی بات کیلئے کوئی گلوبلی ایکسپٹیبل پروسیجر تو ہے نہیں ۔

ہر معاشرے میں پرنسیپلز تو مل جاتے جو سکسیس کے چانسز بھی بڑھا دیتے ہیں مگر سکسیس کی گارنٹی نہیں دیتے ۔ جہاں ڈیسیشن میکرز کی ڈسکریشن بھی ہو اور گزرے ہوئے عظیم لوگوں سے ذیادہ عظیم لوگوں کے آنے کے امکانات بھی نہ ہوں تو ایسی سمجھ سے تو ناسمجھی ہی نہیں اچھی کیا ؟

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Tuesday, November 2, 2010

روشن قومیں اور انکا اندھیر ۔


قومیں طاقتور تب ہونا شروع ہوتی ہیں جب انکا روشن اندھیر کافی حد تک دوسری طاقتور قوموں میں منتقل ہو چکا ہوتا ہے ۔ روشنی علم کی روشنی سے شروع ہوکر جلد ہی طاقت کے سر چشمے میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ دنیا بھر کو انصاف اور امن و امان دینے کےخواب دکھائے اور انہونی باتیں کی جاتی ہیں ۔ اپنے ہاں سے روشنیاں چرا کر لیجانے والے دشمنوں سے کم معاوضے پر روشنیوں کی ٹریڈ کی جاتی ہے ۔

جن دشمنوں کے ارادے ٹھیک نہ ہوں انہیں اپنے ہاں اندھیر مچانے کا الزام دیکر سخت سزائیں دی جاتی ہے ۔ دنیا بھر میں انصاف اور امن و امان کی خاطر دوسری قوموں کو طاقتور بننے کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ طاقتور قومیں جشن منانے اور رو شنیاں اکٹھی کرنے کی بے حد شوقین ہوا کرتی ہیں اور اسی شوق میں کمزور قوموں کا روشن اندھیرا بھی اپنے اندر سمو لیتے ہوئے کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

Monday, November 1, 2010

امیدیں اور تمنائیں بمقابلہ گلے اور شکوے ۔


انسان دوسروں انسانوں سے امیدیں اور تمنائیں رکھنے کو اپنا حق سمجھتا ہے اسیلئے امیدیں اور تمنائیں رکھنے کا حق امیدیں اور تمنائیں پوری کرنے والے انسانوں کو نہیں دیا کرتا ۔ یکطرفہ امیدیں اور تمنائیں رکھنے کو اپنا حق سمجھنے والے انسانوں سے امیدیں اور تمنائیں پوری کرنے والے انسان گلے اور شکوے ہی کیا کرتے ہیں ۔ گلے اور شکوے کرنے والے انسان بھی وہ انسان ہوتے ہیں جو امیدوں اور تمناؤں پر پورے اترنے کی باتیں تو کرتے ہیں مگر اتر نہیں پایا کرتے ۔

ایڈیپٹیشن ایز سجیسٹڈ بائی عثمان ۔

گلے اور شکوے کرنے والے انسان بھی وہ انسان ہوتے ہیں جو امیدیں اور تمنائیں رکھے بغیر دوسروں کی امیدوں اور تمناؤں پر پورے اترنے کی باتیں تو کرتے ہیں مگر اتر نہیں پایا کرتے ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔

ٹائم ٹریول ۔


ماضی کی طرف ٹریول اپنے بھلے کیلئے گزرے ہوئے لوگوں کو جاکے سمجھانے کے خواہش ہوا کرتی ہے ۔ اسی طرح مستقبل میں جانا اپنے خوابوں کے بارے میں جان پانے کی خواہش ہوا کرتی ہے ۔ کچھ لوگ ایسی باتوں کو بیماری کہہ کر مزاق اڑاتے ہیں اور کچھ لوگ اس بیماری کا فاعدہ اٹھا کر لوگوں کو بیوقوف بناتے ہیں ۔

آپکی اس بارے میں کیا رائے ہے ۔ ضرور مطلع کریں، بہت مہربانی ہوگی آپکی ۔